ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

2006میں نواز شریف سے میری لندن میں ملاقات ہوئی تھیانہوں نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیا پیغام پاکستانیوں کیلئے دیا تھالیکن  2007میں واپس ملک آتے ہی پہلا ٹکٹ کسے دیا ؟رئوف کلاسرا کا اہم انکشاف 

datetime 6  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )نواز شریف صاحب سے میرا پہلا براہ راست آمنا سامنا جدہ میں 2005ء میں ہوا تھا جب میں حج کرنے گیا تھا ۔سینئر کالم نگار رئوف کلاسرا اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔دوسری ملاقات ایک سال بعد لندن ڈیوک سٹریٹ میں ہوئی اور اگلے ایک برس مسلسل ملاقاتیں ہوتی رہیں ۔ رپورٹر کے طور پر آپ سیاستدانوں سے ملتے ملتے ان کا

ذہن پڑھنےاور سمجھنے کیصلاحیت پیدا کرلیتے ہیں۔ نوازشریف اس وقت پرویز مشرف کے خلاف سٹینڈ لئے ہوئے تھے‘ جیسے وہ آج کل مقتدرہ کے خلاف لئے ہوئے ہیں۔ اُس وقت ان کے بیانیے کو بڑی حمایت حاصل تھی۔ان کے بینظیر بھٹو کے ساتھ چارٹر آف ڈیموکریسی کی جمہوریت پسند اور صحافی حلقوں نے بہت سپورٹ کی تھی۔ اُس وقت بھی وہ یہی کہتے تھے جو آج کہہ رہے ہیں۔ لندن میں نواز شریف نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا: کلاسرا صاحب آپ جا کر پاکستانیوں کو بتا دیں کہ میں نے وہ دکان بند کردی ہے جہاں لوٹوں کا کاروبار ہوتا تھا‘ جس نے پرویز مشرف سے ہاتھ بھی ملایا ہوگا اُسے پارٹی میں شامل کروں گا نہ ہی اسے ٹکٹ ملے گی۔ دو دفعہ وزیراعظم بن لیا‘ کافی ہے اب اصلی انقلاب آئے گا۔ یہ سب ڈرامہ لندن میں ہورہا تھا۔ پاکستان لوٹتے ہی سب سے پہلے ٹکٹ زاہد حامد کو دیا‘ جنہوں نے وزیرقانون کی حیثیت سے جنرل مشرف کا تین نومبر2007 ء کا ایمرجنسی آرڈر ڈرافٹ کیا تھا۔ نہ صرف زاہد حامد کو ٹکٹ دیا بلکہ2013 ء میں انہیں وزیرقانون بھی بنایا۔ امیر مقام پرویز مشرف کے اتنے لاڈلے تھے کہ جرنیل نے امریکی وزیردفاع رمز فیلڈ سے تحفے میں ملنے والے دو پستولوں میں سے ایک ان کو دے دیا تھا۔ آج کل وہی امیرمقام نواز لیگ کے کرتا دھرتا ہیں۔ صرف دو مثالیں پیش کررہا ہوں ‘ ایسی باتیں اس وقت تک کی جاتی ہیں جب تک اقتدار نہیں ملتا ‘جیسے آج کل کی جارہی ہیں۔ مجھے2007ء کے بعد ان دونوں بھائیوں کی کسی بات اور وعدے پر اعتبار رہا اور نہ ہی ان کے دعووں اور جمہوریت کے چیمپئن بننے کی بڑھک کو کبھی سنجیدہ لیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…