پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

انصاف ہو تو ایسا 3 ججوں کی تنزلی، 2 کی پنشن روک دی گئی

datetime 6  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پشاورہائیکورٹ کے ماتحت عدلیہ کے جوڈیشل اپیلٹ ٹربیونل نے 3ڈسٹرکٹ سیشن ججوں کی تنزلی ،2کی پنشن روکنے اورایک سینئرسول جج کی برطرفی کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے ان ججوں کواپنے عہدوں پربحال کردیا۔

روزنامہ جنگ میں شائع امجد صافی کی خبر کے مطابق سیشن جج کے عہدے پربحال ہونے والے ججوں میں عامرنذیر ، ڈاکٹرخورشید اقبال اورصوفیہ وقارخٹک شامل ہیں، اصغرسالارزئی کو بطورسول جج بحال کردیاگیا جبکہ دو ریٹائرڈسیشن ججوں سبحان شیراورحیات علی شاہ کی پنشن بحال کردی گئی ہے ان ججز کو جوڈیشل اکیڈمی میں بھرتیوں میں مبینہ طور پر رولز پرعملدرآمد نہ کرنے اوراہل افراد کو نظرانداز کرنے پرمختلف سزائیں دی گئی تھیں، چیئرمین جسٹس لعل جان خٹک اور جسٹس اعجازانورپر مشتمل ٹربیونل نے ان ججز کی مختلف اپیلوں پر سماعت کی ۔ عدالت کو بتایا گیا کہ جوڈیشل اکیڈمی میں بھرتیوں کے معاملے پر اس وقت کے پشاورہائی کورٹ کے رجسٹرار سبحان شیر اور ڈائریکٹر جنرل جوڈیشل اکیڈمی حیات علی شاہ کی پنشن دوسال کے عرصے کیلئے بند کی گئی، اسی طرح دیگر کمیٹی ممبران سیشن ججز عامرنذیر،ڈاکٹر خورشید اقبال اور صوفیہ وقار خٹک کی ایڈیشنل سیشن ججز کے عہدے پر تنزلی کی گئی جبکہ ایک کمیٹی ممبر سینئر سول جج اصغرسلارزئی کوبرطرف کیا گیا۔

ریٹائرڈ ججز سبحان شیر اور حیات علی شاہ پر بھرتی کیلئے سفارش کا الزام تھا جس پر انکی پنشن دوسال کیلئے بند کی گئی، پشاور ہائیکورٹ کے لیگل ایڈوائزر نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ جوڈیشل اکیڈمی میں تقرریوں کا معاملہ پشاور ہائیکورٹ میں ایک رٹ کے ذریعے چیلنج کیا گیا

اور ان احکامات کی روشنی میں وہاں پر تمام ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا جس کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جوڈیشل اکیڈمی میں کی گئی تقرریاں بغیر اشتہار کے کی گئی ہیں اس کے ساتھ ساتھ زیادہ تر کمیٹی ممبران نے اپنے رشتہ داروں کو بھرتی کیا جس کے باقاعدہ ثبوت پشاور ہائی کورٹ کے ایڈمنسٹریٹو کمیٹی کے پاس موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…