جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

آذربائیجان کی فوج نے آرمینیا فوج کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جنگ کا میدان چھوڑ کر بھاگ نکلنے کے بعد جنگ بندی کا اعلان

datetime 2  اکتوبر‬‮  2020 |

باکو (مانیٹرنگ ڈیسک/ این این آئی ) آذر بائیجان کے ساتھ جنگ بندی کے لیے آرمینیا نے مشروط رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق آذر بائیجان نے آرمینیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ آرمینین وزارت خارجہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ

آذر بائیجان کیساتھ جنگ بندی کے معاملے پر اقوام متحدہ، امریکا، روس اور فرانس کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔نجی ٹی وی دنیا کی رپورٹ کے مطابق آرمینیا کے مطابق یورپ میں تنازعارت کو حل کرنے والی تنظیم او ایس سی ای کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے اور ہم جنگ بندی پر رضامند بھی ہوسکتے ہیں۔آرمینیا کی جانب سے جنگ بندی کا عندیہ اس وقت سامنے آیا ہے جب نارگورنو-کاراباخ میں ترکی نے آذربائیجان کی حمایت کی اور مزید 54 آرمینیائی فوجی ہلاک ہوئے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 158 ہوگئی ہے جب کہ آرمینیا کی گولہ باری سے آذربائیجان کے 19 شہری جاں بحق ہوئے۔اور فوج جنگ کا میدان کو چھوڑ کر بھاگ نکلی تھی ۔ آرمینیا کی طرف سے مذاکرات کی میز پر آنے کے بعد اٰذر بائیجان کے وزیر خارجہ حکمت حاجیو کا کہنا ہے کہ ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں، بس بہت ہو گیا آرمینیا مقبوضہ علاقے قرہباخ سے اپنی فوج کو واپس بلا لے ، جنگ ختم کرنے کے لیے اب گیند آرمینیا کی کورٹ میں ہے۔دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نے کہاہے کہ ناگورونو کاراباخ میں آرمینیا کے خلاف پاکستانی فوج کا آذربائیجانی فوج کے ہمراہ لڑائی سے متعلق خبریں بے بنیاد اور محض افواہیں ہیں۔ اپنے بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ ایسی اطلاعات غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ناگورونو کاراباغ کی صورتحال پر پاکستان کو گہری تشویش ہے۔ ترجمان نے کہاکہ آذربائجانی شہری آبادی پر آرمینیا کی طرف سے بھاری شیلنگ نہایت افسوسناک ہے۔ ترجمان نے کہاکہ اس سے پورے خطے کے امن و امان کو نقصان پہنچ سکتا ہے،مزید کشیدگی سے بچنے کے لئے آرمینیا فوری طور پر فوجی کارروائی بند کرے۔ ترجمان نے کہ اکہ ناگورونو کاراباغ پر آذربائیجان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…