جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس، مرکز ی ملزم عابد علی ملہی کو مار دیا گیا ہے کیونکہ۔ ۔ 3 کرائم رپورٹرز اور ایک سینئر اینکر پرسن کے تہلکہ خیز انکشافات‎‎

datetime 1  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سانحہ لاہور سیالکوٹ موٹروے کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔اسی حوالے سے سینئر صحافی عمران ریاض خان کا کہنا ہے کہ مجھے 3 زبردست کرائم رپورٹرز نے بتایا ہے کہ سانحہ موٹروے کیس کا ملزم عابد ملہی  پولیس کی مدد سے ڈکیتیاں کرتا تھا۔عابد  پولیس کے کہنے پر ہی ڈکیتیاں کرتا تھا۔

پولیس والوں کےعابد کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔اگر عابد کو گرفتار کر کے میڈیا کے سامنے لایا جاتا ہے تو وہ بہت اہم انکشافات کرے گا کہ کس کس پولیس والے نے اس سے کون سے کام کروائے۔ایک رپورٹر نے تو مجھے یہ تک کہہ دیا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ عابد علی کو مار کے دبا دیا گیا ہو اور اب اس کی لاش بھی نہیں ملے گی لیکن یہ معلومات غیر تصدیق شدہ ہیں۔لاہور سیالکوٹ موٹروے کیس کا مرکزی ملزم عابد ملہی وقوعہ کے 23 روز گزر جانے کے باوجود تاحال گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لئے لاہور پولیس کے شعبہ انویسٹی گیشن نے آٹھ مختلف ٹیمیں تشکیل دی رکھیں تھی۔ جو تاحال ملزم کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ جبکہ دوسری طرف پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تشکیل دی جانے والی 8 انویسٹی گیشن ٹیموں میں تعینات 4 اعلیٰ پولیس افسران سمیت انویسٹی گیشن ونگ کے 8 افسران نے آئی جی پولیس پنجاب انعام غنی سے زبانی اپنے تبادلوں کی درخواست کر رکھی ہے اور یہ پولیس افسران ان دنوں لاہور سیالکوٹ موٹروے کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کی گرفتاری پر توجہ دینے کی بجائے اپنے تبادلوں میں مصروف ہیں۔ جس کے باعث پولیس افسران کی اس کیس میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس افسران کے تبادلوں کی خواہش سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی تعیناتی کے بعد پیدا ہوئی تھی۔دیا گیا ہو اور اب اس کی لاش بھی نہیں ملے گی لیکن یہ معلومات غیر تصدیق شدہ ہیں۔

پنجاب پولیس نے لاہور سیالکوٹ موٹروے پر سکیورٹی کیلئے اہلکاروں کی تعیناتی سے معذرت کر لی ،نجی ٹی وی کے مطابق لاہور سیالکوٹ موٹروے پر پولیس کی نفری تعیناتی کا معاملہ مسلسل تاخیر کا شکار ہو رہا تھا تاہم اب پولیس نے اہلکاروں کی تعیناتی سے معذرت کرتے ہوئے مراسلہ آئی جی پنجاب انعام غنی کو بھجوا دیاہے ۔

مراسلے میں کہا گیاہے کہ پولیس کو پہلے ہی نفری کی کمی کا سامنا ہے جس کے باعث وہ لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر نفری تعینات نہیں کر سکتے۔یاد رہے کہ موٹر وے کے اس روٹ پر سکیورٹی کا کوئی انتظام نہیں جس کی وجہ سے پچھلے ماہ ایک اندوہناک واقعہ رونما ہوا تھا جس کا مرکزی ملزم عابد علی ملہی تاحال پولیس کی گرفت میں نہیں آسکا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…