جمعہ‬‮ ، 10 اپریل‬‮ 2026 

تمام ڈیمز اتنی مدت میں مکمل کئے جائیں ورنہ یہ کام ہو گا، سپریم کورٹ نے بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 30  ستمبر‬‮  2020 |

کوئٹہ(این این آئی) چیف جسٹس آف پاکستا ن جسٹس گلزاراحمد نے کہا ہے کہ بلوچستان بھر کے تمام ڈیمز تین سال کے اندر مکمل کیے جائیں ورنہ زمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں گے،وندرسمیت صوبے میں زیر تعمیر ڈیمز کی تعمیر سے متعلق سہ ماہی کارکردگی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی جائے۔یہ احکامات انہوں نے سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں پانی کی قلت سے متعلق کیس

کی سماعت کے دوران دئیے۔ بدھ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الاحسن نے پانی کی قلت سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ بلوچستان میں پانی کی صورت حال بدتر ہوتی جارہی ہے،صوبائی حکومت کو اسکا کوئی ادراک ہے سکا کوئی سدباب کیا ہے؟۔جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ صوبے میں پانی ذخیرہ کرنے کیلئے کتنے ڈیمز ہیں اور نئے کتنے بنارہے ہیں جس پر ایڈووکیٹ جنرل اربا ب طاہر کاسی نے کہا کہ اس وقت صوبے میں شادی کورڈیم،میرانی ڈیم بھرے ہوئے ہیں،صوبے کے ڈیمز تین سال کے پانی کی ضروریات پوری کرسکتے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہنہ جھیل کوئٹہ کی کیا صورتحال ہے وہاں کتنا پانی موجود ہے؟۔ا یڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ جھیل مکمل بھر گئی ہے اسکے ساتھ دیگر علاقوں میں بھی استعداد بڑھارہے ہیں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ استفسار کیا کہ کوئٹہ کے اطراف میں کوئی ڈیم ہے جو ضروریات پوری کرے۔سیکرٹری پی ایچ ای نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں 5 ڈیمز مکمل ہیں،4 اگلے سال مکمل ہوں گے صوبے میں 100 ڈیمز کے منصوبے پر کام جاری ہے،40 ڈیمز مکمل اور 60 پر تاحال کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ جب یہ سارے ڈیمزمکمل ہوجائیں گئے تو پانی کی قلت ختم ہوجائیگی۔چیف جسٹس پاکستان نے احکامات دئیے کہ بلوچستان میں ڈیمز کی کوالٹی

پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے یہاں 50 سالہ چیز 5 سال بھی نہیں چل سکتی۔انہوں نے کہا کہ ہم ہرکام نیب کونہیں دے سکتے کہ وہ کام کرے جو سامنے کھڑے ہیں یہ ان کا کام ہے جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ حکومت چیف منسٹر انکوائری ٹیم سے تحقیقات کروارہی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ آپ نے کیسے لوگ رکھے ہیں،انہوں نے کہا کہ وندر ڈیم پر کام جلد شروع کیا جائے

اور ایک سال کے اندر مکمل کیا جائے صوبے بھر کے تمام ڈیمز تین سال کے اندر مکمل کیے جائیں ورنہ زمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں گے۔انہوں نے احکامات دئیے کہ وندر ڈیم سمیت صوبے میں بننے والے ڈیمز کی تعمیر سے متعلق سہ ماہی کارکردگی رپورٹ سپریم کورٹ

میں جمع کروائی جائے،عدالت نے ہدایت کی کہ کوئٹہ سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر پی ایچ ای کے ٹیوب ویلز سے عوام کو پانی فراہم کرنے کا طریقہ کار وضع کیا جائے جس کے بعد سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری نے پانی کی قلت کیس کی سماعت تین ماہ کیلئے ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…