اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کا اربوں روپے کی سرمایہ کاری کیلئے بڑا اقدام،سیمنٹ فیکٹریز لگانے کیلئے شاندار فیصلہ

datetime 27  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن)وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر پنجاب حکومت نے صوبے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کیلئے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے سیمنٹ فیکٹریز لگانے کیلئے مختلف محکموں کے این او سی کے اجراء کو آسان بنا دیا ہے اور مختلف محکموں میں فیکٹریاں لگانے کیلئے این او سی کے اجراء کو ٹائم لائن کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے جبکہ غیر استعمال شدہ مائننگ لیز کے حوالے

سے قواعدو ضوابط میں ضروری رد و بدل کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ سرمایہ کاروں کیلئے ہر طرح کی آسانیاں پیدا کریں گے۔ این او سی جاری کرنے کے حوالے سے پراسیس کو مزید تیز کیا جائے اور سرمایہ کارو ںکی آسانی کیلئے قواعد و ضوابط کو سہل بنایا جائے۔ کسی بھی محکمے میں این او سی کے اجراء میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کروںگا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے این او سی کے اجراء کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور محکمہ صنعت اور دیگر متعلقہ محکموں کی کارکردگی کو سراہا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کی سربراہی میں سٹیرنگ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ کمیٹی این او سی کے اجراء کے حوالے سے تمام پراسیس کا جائزہ لے گی اور فیکٹریز لگانے کیلئے سرمایہ کاروں کی درخواستوں پر این او سی کے بروقت اجراء کو یقینی بنائے گی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ صنعت لگے گی تو سرمایہ کاری آئے گی۔نئی سرمایہ کاری سے روزگار کے بے پناہ مواقع پیدا ہوں گے۔معیشت مضبوط ہوگی اور کاروبار پھلے پھولے گا۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکی زیرصدارت آج وزیراعلیٰ آفس میں اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد ہوا۔ سیکرٹری صنعت نے بریفنگ میں بتایا کہ پنجاب حکومت کو نئے سیمنٹ پلانٹ لگانے کیلئے 23 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ 5سیمنٹ پلانٹ لگانے

کی درخواستوں پر این او سی اگلے ماہ کے شروع میں جاری کر دیئے جائیں گے جبکہ دیگر درخواستوں پر بھی فوری طور پر ضروری کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ایک سیمنٹ پلانٹ پر تقریباً 30 سے 40 ارب روپے

لاگت آتی ہے۔ صوبائی وزیر صنعت میاں اسلم اقبال، چیف سیکرٹری، سیکرٹریز لوکل گورنمنٹ، آبپاشی،صنعت، معدنیات،ماحولیات، سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے سربراہ اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…