اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان کی حمایت کیوں کرتا ہوں؟ کامران خان نے وجوہات بتا دیں

datetime 27  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نامور صحافی اور تجزیہ نگار کامران خان کا فیس بک پر اپنے ویڈیو پیغام میں وزیر اعظم عمران خان کی حمایت کرنے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہنا ہے کہ میری عمران خان کی حمایت کرنے کی اولین وجہ یہ ہے کہ میرا یقین ہے کہ عمران خان کو مال و متاع

کی کوئی لالچ نہیں، دوسری یہ کہ عمران خان کسی قسم کی مالی کرپشن میں ملوث نہیں ہے اور نہ ہی کسی اپنے رشتے دار یا دوست کو جان بوجھ کر مالی کرپشن کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔کامران خان کا اپنے ویڈیو پیغام میں مزیدکہنا تھا کہ عمران خان کی حمایت کی تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ میرا یقین ہے کہ الحمداللہ وزیراعظم عمران خان کسی عرب بادشاہ یا غیر ملکی سربراہ کے دوروں کے دوران معنوم اس لئے نظر نہیں آتا کیونکہ وہ ان سے تحفوں قیمت میں بی ایم ڈبلیو، مرسڈیز کیا سونے چاندی کے جواہرات کے سلسلے میں کسی ڈیل کا متمنی نظر نہیں آتا، اسی لئے ان ملاقاتوں میں صرف پاکستان کے عظیم ترین قومی مفاد کے معاملات ہوتے ہیں۔کامران خان کا اپنے ناظرین سے گزارش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میری گزارش ہے کہ ایک دفعہ توشا خانہ ریفرنس کا کیس دیکھ لیں کہ کیسے اقتدار کے پانچویں بار متمنی آصف علی زرداری نے کس طرح بی ایم ڈبلیو اور مرسڈیز اپنے لئے سمیٹیں، جبکہ ایک مرسڈیز نوازشریف کی خواہش پر اسے بھی بھجوا دی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حمایت کی ایک اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر انتھک کام کرنے کا جنون ہے، ہر ہفتے منگل کے روز سے وفاقی کابینہ کا گھنٹوں طویل اجلاس ہو، ہر ہفتے کنسٹرکشن ہو یا معاشی تازہ فورس کی کارکردگی کا جائزہ لیں، ان تمام وجوہات کی بنا پر

افواج پاکستان حکومت کی پشت پناہی پر مکمل سپورٹ فراہم کرنے کے لیے کھڑی ہیں، تاریخی سول ملٹری امتزاج پاکستانیوں کی قسمت بدل دے گا۔اپنے ویڈیو پیغام کے آخر میں کامران خان کا کہنا تھا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے جیسے میں نے اوپر بیان کئے ہیں تو میں ہمیشہ انشااللہ عمران خان کی حکومت کی خامیوں اور خوبیوں کے حوالے سے تبصرہ کرتا رہوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…