اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان کی حمایت کیوں کرتا ہوں؟ کامران خان نے وجوہات بتا دیں

datetime 27  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نامور صحافی اور تجزیہ نگار کامران خان کا فیس بک پر اپنے ویڈیو پیغام میں وزیر اعظم عمران خان کی حمایت کرنے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہنا ہے کہ میری عمران خان کی حمایت کرنے کی اولین وجہ یہ ہے کہ میرا یقین ہے کہ عمران خان کو مال و متاع

کی کوئی لالچ نہیں، دوسری یہ کہ عمران خان کسی قسم کی مالی کرپشن میں ملوث نہیں ہے اور نہ ہی کسی اپنے رشتے دار یا دوست کو جان بوجھ کر مالی کرپشن کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔کامران خان کا اپنے ویڈیو پیغام میں مزیدکہنا تھا کہ عمران خان کی حمایت کی تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ میرا یقین ہے کہ الحمداللہ وزیراعظم عمران خان کسی عرب بادشاہ یا غیر ملکی سربراہ کے دوروں کے دوران معنوم اس لئے نظر نہیں آتا کیونکہ وہ ان سے تحفوں قیمت میں بی ایم ڈبلیو، مرسڈیز کیا سونے چاندی کے جواہرات کے سلسلے میں کسی ڈیل کا متمنی نظر نہیں آتا، اسی لئے ان ملاقاتوں میں صرف پاکستان کے عظیم ترین قومی مفاد کے معاملات ہوتے ہیں۔کامران خان کا اپنے ناظرین سے گزارش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میری گزارش ہے کہ ایک دفعہ توشا خانہ ریفرنس کا کیس دیکھ لیں کہ کیسے اقتدار کے پانچویں بار متمنی آصف علی زرداری نے کس طرح بی ایم ڈبلیو اور مرسڈیز اپنے لئے سمیٹیں، جبکہ ایک مرسڈیز نوازشریف کی خواہش پر اسے بھی بھجوا دی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حمایت کی ایک اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر انتھک کام کرنے کا جنون ہے، ہر ہفتے منگل کے روز سے وفاقی کابینہ کا گھنٹوں طویل اجلاس ہو، ہر ہفتے کنسٹرکشن ہو یا معاشی تازہ فورس کی کارکردگی کا جائزہ لیں، ان تمام وجوہات کی بنا پر

افواج پاکستان حکومت کی پشت پناہی پر مکمل سپورٹ فراہم کرنے کے لیے کھڑی ہیں، تاریخی سول ملٹری امتزاج پاکستانیوں کی قسمت بدل دے گا۔اپنے ویڈیو پیغام کے آخر میں کامران خان کا کہنا تھا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے جیسے میں نے اوپر بیان کئے ہیں تو میں ہمیشہ انشااللہ عمران خان کی حکومت کی خامیوں اور خوبیوں کے حوالے سے تبصرہ کرتا رہوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…