جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

نوازشریف نے ہر دفعہ اقتدار ملنے کے بعد فوج سے لڑائی اور اداروں کو کمزور کیا، تقریر لکھنے والوں نے ان کے ساتھ کیا کام کیا ہے؟ چودھری شجاعت حسین کا دعویٰ

datetime 21  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ نوازشریف نے ہر دفعہ اقتدار ملنے کے بعد فوج سے لڑائی کی اور اداروں کو کمزور کیا، انہیں بطور وزیراعظم قومی استحکام، یکجہتی اور ملکی سلامتی پیدا کرنا چاہئے

تھا جو انہوں نے نہیں کیا۔ نوازشریف کی تقریر پر اپنے ردعمل میں انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف نے سیاستدانوں کی بجائے فوج کو ہدف تنقید بنایا، ان کی تقریر جن مشیروں نے لکھی اور کروائی ہے انہوں نے ایک مرتبہ پھر نوازشریف کے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے، ان کی تقریر کا مفہوم یہ ہے کہ وہ سیاستدانوں کے نہیں فوج کے خلاف ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ نوازشریف نے اپنی تقریر میں رگنگ کا حوالہ تو دیا لیکن اپنے حق میں کی گئی رگنگ کو بھول گئے، نوازشریف کا کہنا تھا کہ ملک کو لیبارٹری بنا دیا گیا جبکہ اس لیبارٹری کی بنیاد انہوں نے خود رکھی تھی اور 1990ء کے الیکشن میں دن بارہ بجے خود ہی رزلٹ کا اعلان کر دیا جبکہ الیکشن کمیشن نے شام کو اعلان کرنا تھا، اس وقت نوازشریف نے ہی الیکشن کمیشن کو درخواست کی تھی کہ فوج الیکشن کی ذمہ داری لے، اس وقت فوج اچھی تھی اب بری ہوگئی، نوازشریف نے اداروں پر انتخابات کو ہائی جیک کرنے اور بددیانتی کا الزام لگایا جبکہ یہی کام وہ خود وزیراعظم بننے کیلئے کر چکے ہیں، نوازشریف کو چیئرمین نیب پر بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا کہ ان کی نامزدگی خود انہوں نے ہی کی تھی۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ فیصلے نوازشریف نے نہیں بلکہ عوام نے کرنے ہیں اور اب عوام دوبارہ بددیانتی کے فیصلوں کو قبول نہیں کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…