بدھ‬‮ ، 08 اپریل‬‮ 2026 

پاک فوج کا کسی بھی سیاسی عمل سے براہ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق نہیں ، عسکری قیادت نے واضح کردیا

datetime 21  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی پارلیمانی رہنمائوں سے ملاقات، نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق ملاقات میں گلگت بلتستان کے انتظامی امور اور قومی سلامتی سے متعلق بات چیت کی گئی ، عسکری قیادت نے نیشنل ایکشن پلان پر پر تیز تر

اورموثرعملدرآمد پر زوردیا،عسکری قیادت نے فوج کو تمام سیاسی معاملات سے دور رکھنے پر اصرارکیا اور واضح کیا کہ پاک فوج کا کسی بھی سیاسی عمل سے براہ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق نہیں، ،ضرورت پڑنے پر فوج ہمیشہ سول انتظامیہ کی مدد کرتی رہے گی ،یاد رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیر اعظم نوازشریف نے لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک ا ے پی سی سے خطاب میں کہا تھا کہ یہ بات پاکستان کے بچے بچے کہ زبان پر ہے کہ 73 سال کی تاریخ میں ایک بار بھی کسی منتخب وزیراعظم کو اپنی 5 سال کی آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی، ہر آمر نے ملک میں اوسطاً 9 سال غیرآئینی طور پر حکومت کی جبکہ عوام کے ووٹوں سے منتخب وزیراعظم کو اوسطاً 2سال سے بھی زیادہ کا عرصہ شاید ہی ملا ہو۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ جمہوریت کی مہم جوئی کو روکنے کے لیے 1973 کے آئین میں آرٹیکل 6 ڈالا گیا لیکن اس کے باوجود بھی 20 سال جرنیلی آمریت کی نذر ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ جب ایک آمر کو آئین شکنی کے جرم میں پہلی بار عدالت میں لایا گیا تو آپ سب نے دیکھا کہ کیا ہوا، مجھے یہ کہنے میں دکھ ہوتا ہے کہ جس طرح ہرمارشل لا کو عدالتوں نے جائز قرار دیا، آمروں کو آئین سے کھلواڑ کرنے کا اختیار دیا، اسی طرح 2 مرتبہ آئین توڑنے

والوں کو بریت کا سرٹیکیٹ بھی عدالتوں نے دیا، اس کے برعکس آئین پر عمل کرنے والے کٹہروں میں کھڑے ہیں یا جیلوں میں پڑے ہیں، ہماری تاریخ میں 33 سال کا عرصہ فوجی آمریت کی نذر ہوگیا، یہاں صرف ایک آمر پر مقدمہ چلا، خصوصی عدالت بنی، کارروائی ہوئی، اسے آئین و قانون

کے تحت سزا سنائی گئی لیکن ہوا کیا؟ کیا وہ ملک میں آگیا اور اسے سز ملی؟ بلکہ ہوا تو یہ کہ وہ عدالت ہی غیر آئینی قرار دے دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یہ کوئی انہونی بات نہیں کہ کسی آمر کے بڑے سے بڑے جرم پر کوئی کارروائی نہ ہو، اگر کارروائی ہو بھی جائے تو کوئی اسے چھو بھی نہ سکے اور اگر کوئی فیصلہ آ بھی جائے تو صرف سزا ہی نہیں بلکہ عدالت کو بھی ہوا میں اڑا دیا جائے لیکن یہ سب آخر کب تک ؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…