اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں بجلی صارفین کو کیسے لوٹا جا رہا ہے،تہلکہ خیز انکشافات

datetime 15  ستمبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں بجلی کے صارفین کو دو دھاری تلوار سے کاٹا جا رہا ہے۔ ایک طرف تو بجلی انتہائی مہنگی کرنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ دوسری طرف اوور بلنگ کے ذریعے انھیں مسلسل لوٹا جا رہا ہے جس نے انکی کمر توڑ دی ہے۔

حکومت بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کی لوٹ مار کا فوری نوٹس لے کر اس سلسلے کو روکے۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ بجلی کا شعبہ روزانہ1 ارب سے زیادہ کا نقصان کر رہا ہے جس میں بڑا حصہ چوری کا ہوتا ہے۔ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اپنا نظام بہتر بنانے اور چوری و دیگر نقصانات روکنے کے بجائے نقصانات کم کرنے کے لئے اوور بلنگ کا حربہ اختیار کرتی ہیں جس سے عوام پر بوجھ بڑھتا ہے جبکہ کاروباری شعبے اپنی پیداوار اور خدمات کی قیمت بڑھا نے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔کاروباری برادری کیلئے پاکستان میں علاقائی ممالک کے برابر قیمت پر بجلی کا حصول ایک خواب بن گیا ہے جس پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی منفی پالیسی سے نہ صرف حکومت کا اصلاحاتی ایجنڈا متاثر ہو رہا ہے بلکہ اس سے قوم اور معیشت بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں ۔ملک میں بجلی کی طلب پیداوار سے کہیں کم ہے مگر لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی آنکھ مچولی ایک معمول بن چکا ہے جبکہ صارفین کے استحصال کا سلسلہ پورے زور و شور سے جاری ہے۔یہ کمپنیاں نہ تو اپنی کارکردگی بہتر کر سکی ہیں نہ گورننس کے مسائل حل کر سکی ہیں اور نہ ہی گزشتہ 10سالوں میں نقصانات میں قابل ذکر کمی لا سکی ہیں جبکہ ریکوری کے معاملات بھی انتہائی تشویشناک صورت اختیار کر چکے ہیں جن کا ملبہ بل ادا کرنے والے صارفین پر ڈال دیا

جاتا ہے۔سکھر ،ملتان، کوئٹہ اور قبائلی علاقوں کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کا حال سب سے برا ہے جہاں لوٹ مار کے نئے ریکارڈ قائم کئے جا رہے ہیں۔گزشتہ سال متعلقہ وزارت نے ریکوری میں 15.5 فیصد اضافے کا دعوی کیا جبکہ بجلی کی کھپت میں 2.16 فیصد اضافہ ہوا جس سے اس دعوے کی حقیقت کھل جاتی ہے۔گزشتہ سال بجلی کی کھپت میں 2.16 فیصد اضافہ ہوا مگر عوام سے

بلوں کی مد میں 13.22 فیصد زیادہ رقم وصول کی گئی جسکی مالیت اربوں روپے ہے۔2015 سے 2017 تک بجلی کی سالانہ طلب میں اوسطاً چھ فیصد اضافہ ہوا جو 2017-18 میں 12.5 فیصد تک جا پہنچا جسکے بعد اس میں زبردست کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔بجلی کی قیمت میں اضافہ اور اوور بلنگ سے اسکی طلب میں کمی فطری امرہے جو معیشت اورپاور سیکٹر کے لئے نقصان دہ ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…