اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

اداروں سے ٹکرائو کی بات کر جان نہیں چھڑا سکتے ،آپ سی سی پی او ہیں توکل کوئی اور ہو گا ۔۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 14  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں موٹر وے کیس کی عدالتی تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی جس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق حکومت چاہے تو عدالتی تحقیقات کرا سکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ے کہ موٹرو کیس میں ملزمان کو

دو دن میں گرفتار کر کے رپورٹ پیش کی جائے ۔ انہوں نے آجی پنجاب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ اداروں سے ٹکرائو کی بات کر کے جان نہیں چھڑا سکتے ۔ متاثرہ خاتون اور بچوں کی زندگی تباہ ہو گئی ہے ہمیں آپ اداروں سے ٹکرائو کی بات سنا کر اپنی جان نہیں چھڑا سکتے ۔ چیف جسٹس نے سی سی پی او عمر شیخ کو کہا کہ آج آپ سی سی پی او لاہور ہیں تو یہاں کل اور سی سی پی او ہو گا ، ایسے متنازع بیانات سے پرہیز کریں جس سے قوم کو بھی تکلیف پہنچے ۔ قبل ازیں موٹروے کیس کے حوالے سے ریمارکس دیے کہ پتا نہیں انویسٹی گیشن ہورہی ہے یا ڈرامہ بازی ہے اور سی سی پی او نے وہ جملہ بولا جس پرپوری کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں موٹر وے کیس کی عدالتی تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی جس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق حکومت چاہے تو عدالتی تحقیقات کرا سکتی ہے۔ قانون پڑھ لیں اور مجھے بھی بتائیں کہ کس قانون کے تحت یہ حکم جاری کریں،صرف خبرچھپوانے کے لیے درخواستیں دائر نہ کی جائیں۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کا مقدمہ درج ہے اور تحقیقات بھی ہورہی ہیں۔دورانِ سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی سی پی اونے

وہ جملہ بولا جس پرپوری کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے، یہ کیا انویسٹی گیشن ہے جس میں سی سی پی او مظوم خاتون کوغلط کہہ رہا ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ سی سی پی او نے جو بیان دیا اس پر کیا کارروائی ہوئی؟ اس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ معاملے کی انکوائری ہورہی ہے، عدالت نے پوچھا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ سی سی پی اوکے بیان پر پر انکوائری ہورہی ہے؟ اس پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ

پورے معاملے کی انکوائری ہورہی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے پر سخت ایکشن ہونا چاہیے تھا تاکہ قوم کی بیٹیوں کو حوصلہ ہوتا، بہت سے وزرا نے عجیب وغریب بیانات دیے، پتا نہیں انویسٹی گیشن ہورہی ہے یا ڈرامہ بازی ہے۔عدالت نے واقعے کی تحقیقات کےلیے کمیٹی کا نوٹیفیکشن اورتازہ رپورٹ طلب کر لی جب کہ سی سی پی او لاہور کو بھی آج ہی طلب کرلیا۔واضح رہے کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ نےلاہور موٹروے کیس سے متعلق متاثرہ خاتون کے حوالے سے دیئے گئے اپنے متنازعہ بیان پرقوم سے معافی مانگ لی ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…