منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

سی سی پی اولاہور عمر شیخ کیخلاف اعلان بغاوت

datetime 10  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور( آن لائن) پنجاب پولیس کے 50 سے زائد افسران نے سبکدوش ہونے والے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کے خلاف ‘توہین آمیز ریمارکس’ دینے پر نومنتخب لاہور کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر عمر شیخ کے خلاف تادیبی کارروائی اور فوری تبادلے کا مطالبہ کردیا۔

میڈیار پورٹس کے مطابق 50 افسران نے مشترکہ طور پر دسخط شدہ ایک اعلامیہ جاری کیا کہ جس میں عمر شیخ کو شعیب دستگیر کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرنے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا۔تمام افسران سنٹرل پولیس آفس (سی پی او) میں جمع ہوئے سبکدوش ہونے والے آئی جی پولیس کے خلاف سی سی پی او کے ریمارکس پر احتجاج کیا۔سی پی او میں جمع ہونے والے اس غیر معمولی اجتماع میں ایس ایس پیز اور ایس پیز کے علاوہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (بی ایس 21) کے عہدے کے اعلیٰ پولیس افسران اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) بھی شامل تھے سینئر پولیس افسران نے ‘ناقابل قبول رویہ ‘ اختیار کرنے پر نئے لاہور سی سی پی او کے خلاف ناراضگی اور غم کا اظہار کیا اور ایک علامیہ تیار کیا اعلامیہ وہاں موجود تمام پولیس افسران کی رضامندی سے تیار کیا گیا تھا اور سی سی پی او کے خلاف کارروائی کے لئے نئے آئی جی پی کے ریکارڈ پر اپنا ‘احتجاج’ لانے کے لیے اس پر دستخط کیے۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ ‘پنجاب پولیس کے افسران 8 ستمبر کو براہ راست اور آن لائن سی پی او میں ملے اور افسران نے سی سی پی او عمر شیخ کی جانب سے بدانتظامی پر مبنی رویے اور محکمہ پولیس میں کمانڈ ڈھانچے اور نظم و ضبط پر نمودار ہونے والے سنگین اور منفی

مضمرات پر تبادلہ خیال کیا۔اعلامیہ کے مطابق سی سی پی او کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد عمر شیخ نے 3 ستمبر کو لاہور پولیس کے افسران کا اجلاس بلایا۔ علامیہ میں مزید کہا گیا کہ مذکورہ اجلاس میں عمر شیخ نے اپنے آئی جی پی کی مذمت کرنے کے ارادے کا اظہار کیا اور

لاہور پولیس کے متعدد پولیس افسران کی موجودگی میں اپنے اور دیگر افسران کے خلاف توہین آمیز اور گستاخانہ زبان استعمال کی افسران کے مطابق مذکورہ اجلاس میں عمر شیخ نے سراسر ‘بے بنیاد’ رویہ اختیار کیا اور کہا کہ آئی جی پی نے انہیں ‘سی’ گریڈ دیا تھا اور انہیں

ایک بدعنوان پولیس افسر قرار دیا تھا۔اعلامیے کے مطابق ‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب انھوں نے آئی جی پی پنجاب کی مخالفت کے باوجود ‘ڈنڈے کی طاقت کے ذریعے سی سی پی او لاہور تعینات کیا تھا۔اس میں عمر شیخ کے حوالے سے کہا گیا کہ آئی جی پی کے حکم پر عمل درآمد

نہیں ہوسکتا اور اگر اس طرح کے احکامات کسی بھی افسر کو پہنچائے جاتے ہیں تو وہ ان پر عمل نہیں کریں گے جب تک کہ (سی سی پی او) ہدایت نہ کریں۔اعلامیے کے مطابق ‘عمر شیخ نے دوسرے سینئر افسران کے دفاتر کے بھی قابل اعتراض اور توہین آمیز انداز میں بات کی

کیونکہ ان کی رائے میں شعیب دستگیر نے ان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالی تھی 50 سے زائد پولیس افسران کے مشترکہ بیان میں کہا کہ عمر شیخ پر آئی جی پی کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے اپنے ارادے کو ظاہر کیا، بے ضابطگی کا ارتکاب کیا، افسران کو آئی جی پی کے

احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے لیے اکسانے سے اجاگر کیا۔عمر شیخ پر بھی یہ الزام عائد کیا کہ وہ مسلح افواج کے افسران کی اہلیت اور طرز عمل کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس دے کر حکومتی قواعد اور پولیس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلح افواج

کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔اعلامیے میں متنبہ کیا گیا کہ اگر سی سی پی او کے خلاف تادیبی کارروائی نہ کی گئی تو ‘محکمہ پولیس کے نظم و ضبط کو مشکلات کا سامنا ہوگا، پولیس کے کمانڈ کا ڈھانچہ خراب ہوجائے گا اور جونیئر افسران سینئر افسران کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کریں گے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ لاہور کے سی سی پی او عمر شیخ کو فوری طور پر ان کے موجودہ عہدے سے ہٹائیں اور دیے گئے قواعد کے تحت ان کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…