منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ایک مشیر نے آئی جی کیلئے پولیس افسران کے انٹرویوز کیے اور کہا کہ ہم نے (ن) لیگ کو قابو کرنا ہے،انصار عباسی کا تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 9  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب کی تبدیلی کیلئے وفاقی حکومت کے ایک مشیر نے پولیس افسران کے انٹرویوز کیے، انہوں نے ایک افسر سے یہ بھی کہا کہ ہم نے ن لیگ کو لاہور میں قابو کرنا ہے۔نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی سی پی او لاہور نے آئی جی کے بارے میں جو کچھ کہاوہ واٹس ایپ کےذریعےہر

بڑے افسر کے پاس گیا،کمانڈ کا سسٹم ہی سیاسی کردیا جائے تو کام نہیں ہوسکتا۔آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی تبدیلی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سی سی پی او لاہور کی تعیناتی آئی جی پنجاب کے علم میں لائے بغیر ہوئی۔ آئی جی پنجاب نے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور بتایا کہ ایک ڈسپلن فورس میں آپ کا جونیئر اپنے ٹاپ باس کے خلاف بولے تو پولیس غیر سیاسی نہیں ہوسکتی، یہ بہت ہی افسوسناک ہے کہ اس طریقے سے آئی جی کو ہٹادیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سی سی پی او کی تعیناتی وفاقی حکومت کے کہنے پر ہوئی تھی، کراچی میں بھی کچھ تبدیلیاں ہوں گی، ان کی سیاسی وجوہات ہیں، حکومت سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہ رہی ہے۔ آئی جی پنجاب کی تبدیلی سے پولیس کو غیر سیاسی کرنے کا بھرم دھڑام سے نیچے گرگیا ہے۔انہوں نے نئے تعینات ہونے والے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بارے میں کہا کہکچھ ماہ پہلے پولیس افسران کی پرموشنز ہوئیں تو سی سی پی او کو وزیر اعظم نے اپروو نہیں کیا تھا۔ ان کے خلاف رپورٹ ایسی تھی جس کی وجہ سے انہیں پرموٹ نہیں کیا گیا تھا، پولیس بھی فوج کی طرح ایک ڈسپلن ادارہ ہے، اگر فوج میں کوئی کور کمانڈر آرمی چیف کےخلاف بات کردے تو پھر فوج تو ختم ہوجائے گی۔ انیتا تراب کیس میں سپریم کورٹ نے ہدایت کی تھی کہ آپ مدت پوری ہونے سے پہلے کسی کو تبدیل نہیں کرسکتے، لیکن یہاں ایک ایک محکمے کے 10، 10 سیکرٹری تبدیل کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی جی کی تبدیلی کے پیچھے سیاسی محرکات ہیں۔ یا درہے کہ گزشتہ روز آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کا تبادلہ کر کے انکی جگہ انعام غنی کو نیا آئی جی پنجاب لگا دیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…