اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی ڈاکٹرکی سرجری کے شعبے میں ایجادات کے دنیا  بھرمیں چرچے

datetime 8  ستمبر‬‮  2020 |

ریاض (این این آئی )سعودی عرب میں موٹاپے کے ایک سرجن نے شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی کی سائنسی ٹیم کی قیادت کرتیہوئے سرجری کے عالمی موجودین میں اپنا شامل کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے جسم کے اندرونی حصوں کی سرجری کے ماہر، سرجن اور میڈیکل کنسلٹنٹ ڈاکٹر عبدالملک الطف کو امریکی مرکز برائے

میڈیکل ایجادات کی طرف سے اپنے پیشے جدید موجدین میں شامل کیا ۔ انہیں یہ اعزاز اینٹی بیکٹیریا خصوصیات کی حامل مصنوعی سرجری نیٹ ورک کی ایجاد پر دیا گیا۔اس حوالے سے ڈاکٹر عبدالملک الطف نے بات کرتے ہوئے کہا کہ طب کے شعبے میں ایجادات کے میدان میں شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی کی امتیازی کاوشیں اور ویژن 2030 کی روشنی میں جدید سائنسی ایجادات کی مساعی قابل ستائش ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حالیہ عشرے کے دوران انہوںنے انسانی جسم کے اندرونی حصوں کی سرجری کے لیے مصنوعی نیٹ کا استعمال کیا۔انہوںنے کہا کہ سرجری کے زخم کے گرد انفیکشن پیدا کرنے والے بیکٹیریا کی موجودگی کا امکان عام رہتا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے سرجن مریض کی سرجری سے گھبراتے ہں۔ تاہم مصنوعی جالے کا استعمال جسم کے اندرونی حصوں کی سرجری کو کامیاب بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ڈاکٹر الطف نے انکشاف کیا کہ ان کی سائنسی ٹیم نے جدید نینو ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مصنوعی جال کے ذریعے ہرنیا کا آپریشن کیا۔ یہ مصنوعی جال سرجری کے زخم کے گرد 14 دن تک رکھاگیا جس نے جسم کے اندرونی ریشوں تک مضر بیکٹریا کی رسائی روک دی۔ اس سے ثابت ہوا کہ مصنوعی نیٹ سرجری کے زخم کو مضر بیکٹیریا سے بچاے میں مدد دے سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…