بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پاک چین اقتصادی راہداری،آج تاریخی دن

datetime 1  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کیلئے پی ایس ڈی پی میں رکھے گئے 58 ارب 10 کروڑ روپے (آج) یکم جولائی سے بتدریج جاری کرنے کا عمل شروع ہوجائےگا۔پی ایس ڈی پی16۔ 2015ءآج سے نافذ العمل ہوگا اور اس کے تحت پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کےلئے پہلی مرتبہ رقم مختص کی گئی ہے ۔ راہداری کے شمالی روٹ میں شامل تھاکوٹ سے حویلیاں 120لومیٹر سڑک کی اپ گریڈیشن اور ازسرنو تعمیر کے فیز ون کےلئے سب سے زیادہ ساڑھے بیس ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ اس کی منظوری ایکنک نے 2014ءمیں دی تھی اور اس سیکشن کی کل لاگت 95 ارب 41 کروڑ روپے ہوگی۔ اس سیکشن کی حصول اراضی کےلئے پانچ ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ تخمینہ لاگت آٹھ ارب 40 کروڑ روپے ہے ۔ سی پی ای سی کے تحت ایم ون پر براہمہ باہتر انٹرچینج سے براستہ فتح جنگ ، پنڈی گھیب ، کالا باغ ، ڈیرہ اسماعیل خان تک ایک نئی چار رویہ ایکسپریس وے تعمیر کی جائے گی جس کےلئے دس ارب روپے رکھے گئے ہیں جن میں پانچ ارب روپے کی اراضی خریدی جائے گی ۔ اس سڑک کی مجموعی لاگت 68 ارب روپے ہوگی اور فتح جنگ سے ترنول تک دو رویہ سڑک تعمیر کی جائےگی جس کا مقصد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو ڈیرہ اسماعیل خان کوریڈور سے براہ راست منسلک کرنا ہے پی ایس ڈی پی میں سے اسلام آباد ، میانوالی ، ڈی آئی خان روٹ کا نام دیا ہے ۔ناردرن روٹ کے تحت برہان تا حویلیاں 59 کلومیٹر ایکسپریس وے کی تعمیر کےلئے دو ارب 30 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ سڑک کی مجموعی لاگت ساڑھے 39 ارب ہے اور اب تک اس پر دو ارب 82 کروڑ روپے خرچ ہوچکے ہیں جبکہ مزید 34 ارب روپے درکار ہیں ۔ سی پی ای سی کے مغربی روٹ کے تحت ڈیرہ اسماعیل خان سے گوادر تک مختلف علاقوں میں اراضی کی خریداری کےلئے دس ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ اس مقصد کےلئے 60 ارب روپے درکار ہیں ۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے مغل کوٹ تک 50 کلومیٹر سیکشن کی بحالی کےلئے دو ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ درکار رقم چار ارب روپے ہے ۔ مغل کوٹ سے ژوب تک 81 کلومیٹر سیکشن کی بہتری کےلئے تین ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ درکار رقم نو ارب روپے ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…