اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

کبھی پاکستان کارڈ، کھیل کر بھی دیکھیں یاا س کا ٹھیکہ کسی اورکے پاس ہے؟

datetime 26  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)دلچسپ میں نے اس لیے کہا کہ ایک وقت آیا کہ بھٹو مخالفت میں بانی متحدہ الطاف حسین اور سائیں جی ایم سید کا اتحاد ہو گیا۔روزنامہ جنگ میں شائع سینئر کالم نگار مظہر عباس اپنے حالیہ کالم میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔ اب حال ہی میں لندن سے خبریں آرہی ہیں کہ بانی کے گروپ میں اور کچھ سندھی اور بلوچ علیحدگی پسند گروپوں میں اتحاد ہو گیا ہے۔

حال ہی میں ہونےوالی کچھ دہشت گردی کی کارروائیوں کے تانے بانے وہاں ہی سے جوڑے جارہےہیں، دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان اور کچھ دیگر کالعدم تنظیموں کے درمیان بھی ایسی ہی مشترکہ کارروائیوں کی اطلاعات ہیں۔کراچی میں بارشیں کیا ہوئیں کہ ایک بار پھر وفاق سے کچھ آوازیں آنے کی دیر تھی کہ سندھ کارڈ اور کراچی صوبہ کی باتیں شروع ہو گئیں مظاہرے شروع ہو گئے تو دوسری طرف کراچی پر کانفرنس۔بات بڑی سادہ سی ہے۔ وفاق نے ایک بار پھر غلط پتا پھینک دیا، رہی سہی کسر متحدہ نے پوری کر دی۔ تاش کی بازی پلٹ گئی اور بلاول بھٹو اور مراد علیٰ شاہ نے 1973 کے آئین اور 18ویں ترمیم کے دفاع کی باتیں شروع کر دیں۔ دوسری طرف وفاق اور سندھ حکومت نے اچھے بچوںکی طرح صفائی کرنے، سڑکیں بنانے ، پانی دینے اور سرکلر ریلوے پر اتفاق کر لیا تو پھر یہ سندھ کارڈ اور علیحدہ صوبہ کی باتیں کیوں۔ اس میں سے ریلوے کو چھوڑکر باقی کام تو بلدیاتی اداروں کے ہیں، چاہے وہ کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں ۔ سندھ اور وفاق میں اتفاق تو میرٹ کے کلچر کو فروغ دینے پر ہونا چاہئے تھا۔پی پی پی اور سندھ حکومت چاہے تو اس مشترکہ کمیٹی کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ خود 2013 کے بلدیاتی ایکٹ میں ترمیم کر کے بلدیاتی اداروں کی خود مختاری بحال کرے۔

یہ کام نہیں کریں گے تو لوگ ان سےپوچھیں گے۔ابھی ڈومیسائل کےمعاملے نے سر اٹھایا تو سندھ بھر سے بجا طور پر آوازیں آنا شروع ہو گئیں کہ یہ سندھ میں رہنے والوں کےساتھ زیادتی ہے۔ مگر جب گریڈ 1سے 15تک کی نوکریاں مقامی لوگوں کے بجائے دوسروں کو دینے کی بات آئی تو خاموشی چھا گئی۔ اس غیر قانونی کام پر تو اکائونٹینٹ جنرل نے بھی اعتراض اٹھایا۔ ایسے پتے نہ پھینکیں

جس سے سب کانقصان ہو۔کیا عام آدمی کو صحت، تعلیم ، پینے کا صاف پانی، اچھی ٹرانسپورٹ مل گئی ہے۔ بہتر سہولتیں ملیں، نوکری یاکاروبار ہوتا تو شاید آبادی پھر بھی کنٹرول ہوتی۔ یہ بات فخریہ بتانے کی نہیں کہ ہم 22کروڑ ہیں بلکہ کچھ شرمانے کی ہے۔سارے کام ہو جائیں پھر جتنا چاہے کارڈ کھیلیں۔ کبھی پاکستان کارڈ، کھیل کر بھی دیکھیں یاا س کا ٹھیکہ کسی اورکے پاس ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…