ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی شاہی فرمان جاری ، متعدد عہدیدار برطرف

datetime 21  اگست‬‮  2020 |

ریاض(این این آئی )جمعہ کے روز سعودی عرب میں جاری ہونے والے ایک شاہی فرمان میں متعدد سرکاری عہدیداروں کو اختیارات کے ناجائز استعمال، مبینہ بدعنوانی اور بد انتظامی پر برطرف اور بعض کو ریٹائر کرنے کا حکم دے دیا گیا۔العلا گورنری میں رائل کمیشن ، بحر احمر کمپنی اور السودہ ڈویلپمنٹ کمپنی کے بحیرہ احمر کی زمینوں پر تجاوزات اور غیرمجاز اقدامات پر بعض عہدیداروں کو

برطرف کرنے کے بعد ان کے خلاف الزامات کی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق رائل کمیشن فار العلا گورنریٹ ، ریڈ سی کمپنی اور سودہ ڈویلپمنٹ کمپنی کے بحیرہ احمر پروجیکٹ کی اراضی پر اختیارات کے ناجائز استعمال کی پانچ ہزارشکایات موصول ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ ان پر کچی آبادیوں میں ہونے والی بدسلوکیوں کی شکایات تھیں۔ ان کمپنیوں کی طرف سے غیر مجاز اقدامات کے نتیجے میں علاقے میں ماحولیاتی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ جس کے بعد حکومت نے ان کمپنیوں اور دوسرے اداروں کے عہدیداروں کو طرف یا ریٹائر کرنے کے احکامات دیے ۔شاہی فرمان کے تحت لیفٹیننٹ جنرل / عواد بن عید بن عودا الباوی (ڈائریکٹر جنرل آف بارڈر سیکیورٹی فورسز) کو ریٹائر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔املج اور الوجہ گورنریوں کے گورنروں کو برطرف کرنے کے ساتھ سودہ مرکز کے چیئرمین کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ املج اور الوجہ میں بارڈر گارڈ سیکٹر کے کمانڈروں کو فارغ کر دیا گیا۔مدینہ منورہ، تبوک اور عسیر گورنریوں میںشکایات اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر اور وزارت دخلہ کے عہدیداروں کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔تبوک ،املج ، الوجہ اور السود کے میئر بھی عہدوں سے ہٹا دیے گئے ۔مدینہ اور تبوک علاقوں کے سیکرٹریٹ میں خلاف ورزی کے ذمہ دار افراد کو عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔7 – وزارت داخلہ ، بلدیات اور دیہی امور ، اور امارات کے مدینہ ، تبوک اور عسیر کو تمام خلاف ورزیوں کو دور کرنے کے لئے ایک ماہ کی مدت دی گئی ہے۔ اس کے بعد کسی اور خلاف ورزی کی صورت میں بہت سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انسداد بدعنوانی کمیشن نے مذکورہ بالا شخصیات کے خلاف شکایات پر ان سے فوری تفتیش کا فیصلہ کیا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…