ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں بئرھداج جزیر العرب کا سب سے قدیم ترین کنواں قرار

datetime 19  اگست‬‮  2020 |

ریاض (این این آئی )سعودی عرب کی شمال مغربی گورنری میں تیما میں واقع بئرھداج کو جزیرہ نما عرب کا سب سے قدیم ترین کنواں قرار دے دیاگیا۔ اس کنوئیں کے بارے میں متعدد روایات ہیں۔ ایک روایت کے مطابق یہ چھ سو قبل مسیح تیار کیا گیا۔ اس کے بارے میں کئی دوسرے قصے اور کہانیاں بھی مشہور ہیں۔عرب ٹی وی کی ایک رپورٹ میں انسانی تاریخ کے اس مشہور اور قدیم ترین کنوئیں کے بارے میں

روشنی ڈالی گئی۔ رپورٹ کے مطابق کنوئیں کا دھانا 65 میٹر اور گہرائی 11 سے 12 میٹر ہے۔ اس کے اندرونی اطراف میں پتھروں کی ایک دیوار بنائی گئی جب کہ باہر چاروں طرف کھجور کے گھنے اور لمبے لمبے درخت ہیں۔ زمانہ قدیم سے لوگ اس کنوئیں سے اپنی اور اپنے مویشیوں کی پیاس بجھاتے اور گھر کی دوسری ضرورت کے لیے پانی استعمال کرتے۔ بئر ھداج سے ایک ہی وقت میں ایک سو اونٹ پانی پی سکتے ہیں۔ اس کے اندر سے پانی 31 پتھر کی نالیوں سے نکالا جاتا ہے۔مرور زمانہ کے ساتھ بئر ھداج کئی حوادث زمانہ کا بھی شکار ہوا۔ اسے کئی بار مسمار کیا گیا اور پھر بنایا گیا۔ آج سے چار سو سال قبل بھی اسے دوبارہ اندر سے کھود کر اس میں سے مٹی نکالی گئی۔ سنہ 1373ھ تک تیما کے باشندے اس کنوئیں سے اپنے مویشیوں کو پانی پلاتے رہے۔سعودی ریاست کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود رحم اللہ علیہ نے بھی ایک بار اس کنوئیں کا وزٹ کیا۔ انہوں نے کنوئیں پر پانی نکالے والوںکا ھجوم دیکھ کر اس کی توسیع کا حکم دیا۔تبوک کے گورنر شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز نے بئرھداج کی دوبارہ مرمت کا حکم دیا ہے تاکہ اسے سیاحوں کے لیے پرکشش بنانے کیساتھ ساتھ مقامی لوگوں کے لیے فائدہ مند بنایا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…