ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

متحدہ عرب امارات کی عوام کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کی اجازت نہیں فلسطینی مفتی نے فتویٰ جاری کردیا

datetime 19  اگست‬‮  2020 |

مقبوضہ بیت المقدس (این این آئی )مفتی اعظم فلسطین الشیخ محمد حسین نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے مسجد اقصی میں نماز کی ادائیگی شرعا حرام ہے۔ترکی کی نیوز ایجنسی کے مطابق مسجد اقصی میں صرف ان مسلمانوں کی نماز جائز ہے جو اسلامی شرعی راستے سے آئیں۔

جو اسرائیل کے ساتھ دوستی کے ذریعے مسجد اقصی میں نماز ادا کریں گے ان کی نماز نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے نام نہاد امن منصوبے سنچری ڈیل میں بھی مسجد اقصی کو اسرائیل کے ساتھ دوستی کا ایک ذریعہ بنانے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی سنچری ڈیل کے تحت مسجد اقصی میں نماز کو حرام قرار دینے کا فتوی دے رکھا ہے۔ ایسے کسی بھی معاہدے کے تحت دوسرے ملک کے مسلمانوں کا عبادت کے لیے مسجد اقصی میں داخل ہونا اور اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے صہیونی ریاست کا ویزا قبول کرنا باطل اور حرام ہوگا۔مفتی اعظم فلسطین نے کہا کہ جو مسلمان مسجد اقصی میں نماز کی ادائی کی تمنا رکھتے ہیں وہ صدق دل سے فلسطینی قوم کا ساتھ دیں اور مسجد اقصی کی آزادی کے لیے کام کریں۔ مسجد اقصی کی پنجہ یہود سے آزادی کے بعد پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے قبلہ اول کے دروازے کھلے ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ دوستی کرنے والے القدس اور مسجد اقصی کو دشمن کے قبضے میں دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے والے کس طرح قبلہ اول کی آزادی کی بات کرسکتے ہیں۔مفتی اعظم فلسطین الشیخ محمد حسین کا کہنا تھا کہ مسجد اقصی کے سرپرست اور اس کے متولی صرف مسلمان ہیں۔ صہیونیوں کو قبلہ اول پر اپنی اجارہ داری کے قیام کا کوئی حق نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…