پیر‬‮ ، 02 فروری‬‮ 2026 

عالم اسلام میں ترکی وہ پہلا اسلامی ملک جس نے اسرائیل کو تسلیم کیاپھر ایران نے تعلقات قائم کئے ، پاکستان اس وقت کہاں کھڑا ہے؟سلیم صافی کے اہم انکشافات

datetime 19  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی اور کالم نگار سلیم صافی روزنامہ جنگ میں اپنے آج کے کالم ”اسرائیل، عالم اسلام اور پاکستان” میں لکھتے ہیں کہ دنیا کے 162ممالک جن میں امریکہ، چین ، فرانس ، جرمنی اورروس جیسے اہم ممالک شامل ہیں، اسرائیل کو تسلیم کرچکے ہیں اور دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکہ تواس کی سب سے بڑی سرپرست ہے۔

31ممالک الجیریا، بحرین،کیمروج، جبوتی، عراق، کویت ، لبنان،لیبیا، موریطانیہ،مراکش، عمان، قطر، سعودی عرب،صومالیہ، سوڈان، شام،تیونس، یمن،افغانستان، بنگلہ دیش،برونائی،ایران، ملائشیا، انڈونیشیا،مالی، نائیجر اور پاکستان جبکہ تین غیرمسلم ممالک یعنی بھوٹان،کیوبا اور شمالی کوریااسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔عالم اسلام کا پہلا ملک جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا وہ ترکی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر ایران نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے ۔ امام خمینی کے انقلاب کے بعد ایران کی اسرائیل کے ساتھ دوستی دشمنی میں بدل گئی لیکن اسرائیل کے ساتھ ترکی کے سفارتی تعلقات طیب اردوان کے وزیراعظم بننے کے بعد بھی برقرار رہے 2005میں طیب اردوان نے اسرائیل کا دورہ کیا اور دونوں ملکوں کی قیادت نے ایران کے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے عزم کے خلاف مشترکہ بیان بھی جاری کیا۔پھر 2007 میں اسرائیل کے وزیراعظم شمعون پیریز نے ترکی کا نہ صرف دورہ کیا بلکہ انہیں ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی سے خطاب کا موقع بھی دیا گیا۔تاہم غزہ فلوٹیلا پر حملے کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوگئے۔ کئی سال تعلقات کشیدہ رہے لیکن پھر خفیہ ملاقاتوں کے نتیجے میں 2016میں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات معمول پر آگئے ۔

ترکی نے ماضی میں فلسطین اور اسرائیل میں ثالثی کرانے کی بھی کوشش کی جبکہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں پاکستانی وزیرخارجہ خورشید محمودقصوری اور اسرائیلی حکام کی میٹنگ بھی ترکی میں وہاں کی قیادت کی خواہش اور ثالثی کے ساتھ ہوئی تھی۔ آگے جا کر سلیم صافی لکھتے ہیں کہ امریکہ نے بھی عرب ممالک پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کیلئے دبائو بڑھا دیا ہے۔ یوں امریکہ کے دبائو اور ایران و ترکی کے خطرے کے پیش نظر سعودی عرب اور یواے ای وغیرہ نے اسرائیل کے ساتھ اپنی مخاصمت کم کرنے کا فیصلہ کیا۔

تازہ اقدام امریکہ کی ثالثی سے متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا سامنے آیا لیکن نہ جانے پاکستان کی بعض مذہبی جماعتیں کیوں اس بنیاد پر متحدہ عرب امارات کو دشمن بنانے پر تل گئی ہیں؟ہماری اپنی حالت یہ ہے کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان نے ہڑپ کرلیا ہے اور دنیا پاکستان کا ساتھ نہیں دے رہی ۔ علاوہ ازیں پاکستان بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور اس تناظر میں اسے دوستوں کی اشدضرورت ہے ۔ ہر ملک اپنے مفادات کو دیکھ کر فیصلے کرتا ہے ۔خود پاکستان کو قطعااسرائیل کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے کیونکہ پاکستان کی عوام کی واضح اکثریت ایسا نہیں چاہتی لیکن دوسرے ممالک کے فیصلوں پر ہماری برہمی کاکیا جواز؟۔

کیا ہم کل ترکی اور چین کے خلاف بھی جلوس نکالیں گے کیونکہ ان دونوں ممالک کے بھی تو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں؟۔کیا اب ہم ایران کے خلاف بھی مظاہرے کریں گے کہ اس کی ہمارے دشمن نمبرون ہندوستان کے ساتھ دوستی کیوں ہے؟ ۔ ہمیں اپنے ملک کی فکر کرنی چاہئے لیکن یہ کوئی عقل مندی نہیں کہ اس نازک موڑ پر جبکہ سعودی عرب کو حکومت نے ناراض کیا ہے،متحدہ عرب امارات کو ہماری مذہبی جماعتیں ناراض کرنے لگی ہوئی ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…