منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

عمران کی اقتدارسے بے دخلی دو بنیادی نکات کے اردگرد گھومتی ہے،اول یہ کہ متبادل کون ہوگا ؟ دوئم یہ کہ اقتدارسے بے دخلی پرعمران خان کا ردعمل کیا ہوگا؟وزیراعظم کے متبادل کے طورپر کونسے تین راستے واضح ہیں ، سینئر صحافی کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 17  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سچ یہ ہے کہ عمران خان کے اندر بھی طاقت کو للکارنے والا چھوٹا سا نوازشریف پیدا ہوچکا ہے جو کبھی کھل کر طاقت کوللکارتا ہے تو کبھی مصلحت کے باعث خاموش ہوجاتاہے۔روزنامہ جنگ میں شائع اعزازسید کے کالم کے مطابق مخدوش معاشی صورتحال کے باعث عمران خان اس وقت ملک میں غیر مقبول ہوچکے ہیں ان کی یہی غیرمقبولیت ان کے اقتدار سے

نکلنے کی سرگوشیوں کو جنم دے رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مارچ2021 میں سینیٹ انتخابات کے بعد ایک سنجیدہ کوشش ضرور کی جائے گی اس پر شاید سوچ بچار جاری ہے۔ عمران خان کو اقتدارسے نکالنے کی خواہشمند اب صرف اپوزیشن ہی نہیں ہے بلکہ کئی طاقتور بھی ہیں، واضح راستہ مگر سجھائی نہیں دے رہا۔عمران کی اقتدارسے بے دخلی دو بنیادی نکات کے اردگرد گھومتی ہے۔ اول یہ کہ متبادل کون ہوگا ؟ دوئم یہ کہ اقتدارسے بے دخلی پرعمران خان کا ردعمل کیا ہوگا؟عمران کے متبادل کے طورپر تین راستے واضح ہیں۔ اول یہ کہ ان ہائوس تبدیلی کے ذریعے پی ٹی آئی کے اندرسے نیا وزیراعظم لایا جائے۔ دوئم یہ کہ پارلیمنٹ کے اندرسے اپوزیشن کے کسی قابل قبول چہرے کو وزیراعظم بنا دیا جائے اور سوئم یہ کہ ملک میں نئے انتخابات کروا دئیے جائیں۔پارٹی کے اندرسے تبدیلی کا پہلا آپشن شاید عمران خان کو قبول نہیں ہوگا۔ پارلیمنٹ کے اندرسے اپوزیشن کو موقع دینے کا آپشن بلاول بھٹوکی سربراہی میں پیپلز پارٹی کو قبول ہے مگر پنجاب سے مسلم لیگ ن کے تعاون کے بغیریہ ممکن نہیں۔سب سے آخری یعنی عام انتخابات کا آپشن مسلم لیگ ن کو قبول ہے مگریہ شاید اس لیے قابل عمل نہیں کہ ملکی خزانہ خالی ہے اورملک کی کمزورمعیشت عام انتخابات کے اخراجات جھیلنے کے قابل نہیں۔دوسرا اہم سوال عمران خان کے ردعمل سے متعلق ہے۔ یہ سوال عمران کے متبادل سے زیادہ اہم ہے۔ اس پردو خیال ہیں اول یہ کہ عمران خان خاموشی سے گھرچلے جائیں گے اوردوسرا یہ کہ عمران خان بھرپورردعمل کا مظاہرہ کریں گے۔ میں دوسرے خیال کے حامیوں میں شامل ہوں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…