پیر‬‮ ، 02 مارچ‬‮ 2026 

اسرائیلی اخبارات میں آج بھی قائداعظم پر تنقید کی جاتی ہے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ فلسطینیوں کی حمایت کی تھی، پاکستان اسرائیل کو تسلیم اس وقت تک نہیں کر سکتا جب تک ۔۔سینئر صحافی حامد میر کا عرب امارات اور اسرائیل معاہدوں پرردعمل جاری

datetime 14  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)عرب امارات اور اسرائیل معاہدوں پر سینئر اینکر پرسن حامد میر نے تنقید کی ہے ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اخبار آج بھی قائداعظم محمد علی جناح پر تنقید کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے ہمیشہ فلسطین کے حق میں بات کی ہے ۔ معروف صحافی نے ٹویٹ پیغام میں لکھا ہےکہ اسرائیلی اخبارات میں آج بھی قائداعظم پر تنقید کی جاتی ہے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ فلسطینیوں کی حمائت کی تھی

کچھ عرب ممالک بھلے اسرائیل کو تسلیم کر لیں پاکستان اسوقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسلئہ فلسطین حل نہ ہو۔ دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے پر اتفاق کر لیا گیاہے۔ صدر ٹرمپ، اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو اور ابو اظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید نے ایک مشترکہ بیان میں اس امید کا اظہار کیا کہ یہ تاریخی پیش رفت مشرق وسطی میں امن کے قیام میں مدد دے گی۔اس بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے نتیجے میں اسرائیل مقبوضہ غرب اردن کے مزید علاقے اسرائیل میں ضم کرنے کے منصوبے کو معطل کر دے گا۔ معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی مکمل بحالی کا معاہدہ طے پاگیا ۔دونوں ممالک ایک دوسرے کے ملکوں میں سفارتخانے قائم کریں گے جبکہ سیکیورٹی ،توانائی ۔ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں بھی تعاون پر اتفاق ہوا ہے ۔ ٹرمپ نے ٹویٹر پر جاری پیغام میں کہا کہ آج ایک بہت بڑاکام ہوگیا ہے اسرائیل اور یو اے ای کے مابین تاریخی امن معاہدہ ہوگیاہے جس کے تحت متحدہ عرب امارات اور اسرائیل آپس میں تعلقات مکمل بحال کریں گے ۔دونوں ممالک کے مابین طے پانے والے معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات اور اسرائیل ایک دوسرے کے ملکوں میں سفارتخانے قائم کریں گے ۔جبکہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں بھی چلائی جائیں گی ۔دونوں ملکوں کے وفود آئندہ ہفتے ملیں گے

۔یواے ای کے ولی عہد شیخ محمد بن زاہد النہیان اور اسرائیل وزیراعظم کے درمیان اتفاق ہوا ہے کہ سیکیورٹی توانائی ،ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعاون کیاجائے گا ،اور دونوں ممالک باہمی تعاون کے فروغ کے لئے کام کریں گے جبکہ معاہدے کے تحت اسرائیل فلسطین کے مزید علاقوں پر قبضہ نہیں کرے گا۔اب تک اسرائیل اور خلیج کے عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں تھے۔دونوں ملکوں میں ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کے حوالے سے پائے جانے والے تحفظات کی وجہ سے غیر رسمی رابطے تھے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…