منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

جانوروں کی ہلاکت ،زرتاج گل،امین اسلم بڑی مصیبت میں پھنس گئے ، عدالت نے تہلکہ خیز حکم جاری کردیا

datetime 11  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے چڑیا گھرمیں جانوروں کی ہلاکت کیس میں وزیر مملکت موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل،مشیرماحولیات ملک امین اسلم کوتوہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے جبکہ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کیا آپ سب یہ چاہتے ہیں کہ عدالت وزیراعظم کوطلب کرے؟

لوگوں نے گھروں میں شیرپال رکھے ہیں،گھروں میں پالتو جانوررکھنا بھی غیر قانونی ہے۔اچھے کام کا کریڈٹ کوکوئی لینا چاہتا ہے مگر جانوروں ہلاکت کی زمہ داری کوئی لینے کو تیار نہیں۔ منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چڑیا گھر میں جانوروں کی ہلاکت سے متعلق کیس پر سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی ۔عدالت نے وزیر مملکت موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل،مشیر ماحولیات ملک امین اسلم،سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی ناہید درانی اور اسلام آباد وائلڈلائف مینجمنٹ بورڈ کے ممبران کو توہین عدالت کا شوکازنوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے شوکازنوٹس جاری نہ کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔دور ان سماعت سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ وزارت قانون نے کہا ہے کہ کابینہ کا کوئی رکن وائلد لائف مینجمنٹ بورڈ کا ممبر نہیں ہو سکتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے خود وزیر کی بورڈ میں شمولیت کی منظوری دی تھی،بورڈ کا نوٹیفکیشن کابینہ کی منظوری کے بعد عدالتی فیصلے کا حصہ بنایا گیا،وزارت قانون عدالتی فیصلے کو خود کیسے تبدیل کر سکتی ہے؟۔شیروں کی موت پر ایف آئی آر سے متعلق ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی معاملے کی انکوائری کر رہی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی خود ذمہ دار ہے،سیکرٹری صاحبہ اپنے خلاف انکوائری کیسے کریں گی؟یہ کیس ایک مثال ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ جانوروں پرانسانوں کے ظلم کی داستان ہے،جانوروں سے متعلق کوئی اچھی بات ہو،دنیا تعریف کررہی ہو توکریڈٹ لینے سب چڑیا گھر پہنچ جاتے ہیں،اب شیروں کے معاملے پر کوئی ذمہ داری نہیں لے رہا۔چیف جسٹس نے کہاکہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ 40 زرافے امپورٹ ہوئے اور وہ سارے کے سارے مر گئے۔جانوروں کی امپورٹ پر پابندی ہونی چاہئے۔عدالت نے سماعت 27 اگست تک ملتوی کردی۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…