جمعرات‬‮ ، 12 مارچ‬‮ 2026 

سوئس عدالت میں حکومتی کامیابی سے وزیر اعظم مشکل میں

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔ اگرچہ غیرملکی بینکوں میں جمع ملکی اثاثوں کو واپس لانا مسلم لیگ ن کی حکومت کے لیے اچھی خبر ہوسکتی ہے مگر حکومت پاکستان کے حق میں آنے والے حالیہ فیصلے کے وقت نے ممکنہ طور پر وزیراعظم نواز شریف کو کافی پریشان پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے۔ایک سوئس فیڈرل ٹربیونل نے حال ہی میں فیصلہ سنایا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری یا بے نظیر بھٹو کے قانونی وارثوں کی ملکیت سمجھے جانے والے قیمتی زیورات، جن پر سیاسی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر حاصل کرنے کے مبینہ الزامات سامنے آئے تھے، کو ضبط کرلیا جائے۔ روزنامہ ڈان کے مطابق زیورات ایک نیکلس، ایک بریسلیٹ، انگوٹھی اور دیگر پر مشتمل ہیں جن کی مالیت ایک لاکھ 80 ہزار ڈالرز ہے۔عدالت کی جانب سے 29 اکتوبر کو جاری ہونے والے فیصلے، جس کی ایک نقل ڈان کو دستیاب ہوگئی ہے، میں ٹربیونل نے بومر فنانس کی جانب سے زیورات کی ملکیت کے دعوے کو مسترد کردیا ہے، یہ کمپنی مبینہ طور پر جینز شکیلی گیلمیلچ نے تشکیل دی تھی اور ان کا تعلق آصف علی زرداری سے تھا، اور ان کے خلاف ایس جی ایس کونیٹکنا تحقیقات بھی جاری ہے۔سوئس ٹربیونل میں حکومت پاکستان کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرم پیتھون اینڈ پیٹر وکیل فرانکوئس روجر مچلی کے مطابق فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جینز شکیلی گیلمیلچ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے اٹارنی کے طور پر پیش ہوئے۔حکومتی موقف درست ثابت ہونے اور جنیوا کی کورٹ آف اپیل کے ایک حالیہ فیصلے کو دیکھتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ سوئس قانونی فرم نے حکومت پاکستان کو اس فیصلے سے آگاہ کردیا ہے کہ بومر فنانس اب خود کو ان زیورات کا قانونی مالک قرار نہیں دے سکتی۔ذرائع نے مزید بتایا کہ جینز شکیلی گیلمیلچ یہ بات ثابت نہیں کرسکے کہ انہوں نے بومر فنانس کے ایک بوڈ رکن کی حیثیت سے ان زیورات کو خریدا تھا۔اٹارنی جنرل آف پاکستان کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ حکومت ٹربیونل کے فیصلے کی اطلاع باضابطہ ذرائع سے ملنے کے بعد اس معاملے میں اقدام کا تعین کرے گی، مگر دوسری جانب فیصلے کی ایک نقل پہلے ہی اسلام آباد ارسال کی جاچکی ہے۔اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے اس معاملے پر بات کرنے سے انکار کردیا جبکہ وزیراعظم کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک سے متعدد کوششوں کے باوجود رابطہ نہیں ہوسکا۔مگر اس کیس کی پیشرفت سے واقف سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل کے دفتر کو فیصلے کی غیرسرکاری نقل موصول ہوچکی ہے تاہم اس وقت وزیراعظم بیرون ملک تھے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کو اس حوالے سے بریفننگ دی جائے گی اور اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔حکومت کو اب مشکل سیاسی انتخاب کا سامنا ہے، عوامی سطح پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار وعدہ کرچکے ہیں کہ غیرملکی بینکوں میں موجود ملکی اثاثوں کو واپس لایا جائے گا اور یہ مقدمہ اس کا موقع فراہم کرتا ہے۔مگر حکمران جماعت کو حالیہ عرصے میں پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے ہاتھوں درپیش مشکلات کو دیکھتے ہوئے متعدد حلقوں کو لگتا ہے کہ یہ پیپلزپارٹی کو بھی مخالف بنانے کا مثالی وقت نہیں جو حالیہ مہنوں میں حکومت کی ناگزیر اتحادی ثابت ہوچکی ہے۔سرکاری ذرائع نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا”قانونی طور پر یہ حکومت کے لیے بیرون ملک موجود اثاثوں کی ریکوری کے لیے ایک مضبوط کیس ہے”۔یہ مقدمہ اکتوبر 1997 میں اس وقت کے اٹارنی جنرل آف پاکستان نے بے نظیر بھٹو، ان کی والدہ نصرت بھٹو اور شوہر آصف علی زرداری کے خلاف دائر کیا تھا۔یہ زیورات ان اشیاء4 میں شامل ہیں جنھیں 1997 میں ضبط کیا گیا تھا تاہم این آر اور کے اجراء کے بعد 2008 میں اصل مقدمات بند ہوگئے تھے تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان کے بعد انہیں دوبارہ کھولا گیا۔آصف زرداری ماضی میں اپنے بیانات میں ان زیورات کی ملکیت کی تردید کرچکے ہیں جبکہ انہوں نے ایس ایس جی کونٹیکنا اسکینڈل میں کرپشن الزامات کو بھی مسترد کردیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…