اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

“لڑکی کی لڑکی سے شادی، کیا پاکستان کو امریکا بنانا چاہتے ہیں؟آپ اس معاشرے کو تباہ کرنے جا رہے ہیں، علی آکاش عرف عاصمہ کے پیش نہ ہونے پر ججز برہم، ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

datetime 5  اگست‬‮  2020 |

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) عدالت نے لڑکی کی لڑکی سے شادی کیس میں دلہا کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں لڑکی کی لڑکی سے شادی اسکینڈل کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے آج بھی مبینہ دلہا علی آکاش عرف عاصمہ بی بی کی

عدم حاضری پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔نجی ٹی وی ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے ایس ایچ او تھانہ ٹیکسلا اور ایس ایچ او گارڈن ٹاؤن لاہورکو دلہا کو 7 اگست کو گرفتار کرکے ہر صورت عدالت پیش کرنے کا حکم دیا۔فاضل جج نے سی سی پی او لاہور کو احکامات پر عملدرآمد کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو گرفتار کرکے پیش نہ کیا گیا تو پولیس افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔علی آکاش کے وکیل نے کہا کہ وہ بیماری کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوسکتا۔ وکیل نے عدالت میں نئی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ علی نے اپنی مبینہ دلہن نیہا علی کو طلاق دے دی ہے، کیس کو ختم کیا جائے۔اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ علی آکاش پنڈی میں موجود ہونے کے باوجود عدالت پیش نہیں ہوا۔عدالت نے علی آکاش کے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کیا اس ملک کو امریکا کی طرز پر بنانا چاہتے ہیں کہ لڑکیاں لڑکیاں اور لڑکے لڑکے آپس میں شادیاں کریں، کیا والدین خاموش رہیں، اس ملک کو کس طرف لے جایا جا رہا ہے، کیا آپ اس ملک کے معاشرے کو تباہ کرنے جا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…