بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

دولت اسلامیہ سے نمٹنے کیلئے ایران میں شیعہ اور سنی فرقوں کے 80ممالک کا اجلا س

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

قم۔۔۔۔ ایران کے شہر قم میں دنیا بھر کے 80 ممالک سے شیعہ اور سنی فرقوں سے تعلق رکھنے والے علماء4 کا اتوار کو اجتماع ہوا جس میں انتہا پسندوں کے خلاف حکمت عملی وضع کرنے اور عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے وجود میں آنے سے پیدا ہونے والے خطرات پر غور کیا گیا۔امریکی خبررساں ادارے اے پی نے اطلاع دی ہے کہ اس اجتماع کے میزبان آیت اللہ نصیر مکرم شیرازی نے شیعہ اور سنی فرقوں میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور تمام مسلمان علماء کو شدت پسندی اور انتہا پسندی کو ہوا دینے والے عناصر کی مذمت اور حوصلہ شکنی کرنے کو کہا۔انھوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ کے شدت پسند گمراہ گروپ کے خلاف جاری فوجی کارروائیں ضروری ہیں لیکن ناکافی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان علماء4 کا فرض ہے کہ وہ اسلام کا معتدل اور سچا چہرہ دنیا کے سامنے پیش کریں اور دولت اسلامیہ کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کریں۔ایران عراق، شام اور کرد فورسز کی دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف زمینی کارروائیوں میں مدد کر رہا ہے جبکہ امریکہ دولت اسلامیہ کے اہداف کو زیادہ تر فضائی حملوں میں نشانہ بنا رہا ہے۔ دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں اب تک سینکڑوں عراقی اور شامی فوجیوں کو ہلاک کر چکے ہیں اور ان میں سنی مخالفین بھی شامل ہیں۔عراق کے وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری نے کہا کہ دولت اسلامیہ کا گروہ اسلامی دنیا کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔دولت اسلامیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے سعودی عرب جیسی ریاستیں بھی پریشان ہیں۔انھوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ کو مسلمانوں معاشروں کو تباہ کرنے اور اسلام کو بدنام کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ دولت اسلامیہ سنی اور شیعوں دونوں فرقے کے لوگوں کو بلا تخصیص ہلاک کر رہے ہیں۔سنی عالم دین عبدالرحمان سربازی نے جو جنوب مشرقی ایران میں جمعہ کے اجتعمات کی امامت کرتے ہیں کہا کہ دولت اسلامیہ کی انسانیت سوز اور ظالمانہ کارروائیوں کی سنیوں کو بھی اسی شدت کے ساتھ مذمت کرنی چاہیے اور یہ گروہ انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔ایک اور شیعہ رہنما مہدی علی زادہ موسی نے کہا کہ دولت اسلامیہ مسلمانوں میں خلیج اور اختلاف کو گہرا کرنے کا ذریعہ ہے۔اس تقریب کے دیگر شرکا نے ان سازش مفروضوں کو دہرایا کہ دولت اسلامیہ کے پیچھے اسرائیل اور امریکہ ہیں جو مسلمان دنیا میں اختلاف کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…