ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

کمپیوٹرز کو نقصان پہنچانے والا جدیدسافٹ ویئر دریافت

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

نیو یارک۔۔۔۔کمپیوٹر سکیورٹی کی ایک نمایاں کمپنی سیمنٹک کے مطابق اس نے کمپیوٹرز کو نقصان پہنچانے والا اب تک کا سب سے جدید اور پیچیدہ سافٹ ویئر دریافت کیا ہے۔سیمنٹک نے اس وائرس زدہ سافٹ ویئر کو رئجن کا نام دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اتنا جدید پروگرام ہے کہ عین ممکن ہے کہ اسے کسی حکومت کی سرپرستی میں تیار کیا گیا ہو۔کمپنی کے مطابق یہ وائرس دنیا بھر اپنے اہداف پر گذشتہ چھ سال سے کام کر رہا ہے۔سیمنٹک کے مطابق کمپیوٹر پر ایک بار انسٹال ہونے پر یہ خود کار طریقے سے سکرین شاٹس لے سکتا ہے، پاس ورڈز کی چوری اور ضائع کی جانے والی معلومات کو دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سافٹ ویئر کے نتیجے میں سب سے زیادہ کمپیوٹر روس، سعودی عرب اور آئرلینڈ میں متاثر ہوئے ہیں۔کمپنی کے مطابق اس کو حکومتی اداروں کی جاسوسی کے علاوہ کاروباری اداروں اور انفرادی شخصیات کی جاسوسی کے لیے استمال کیا گیا۔محققین کے خیال میں اس سافٹ وئیر کی پیچیدگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے کسی ملک نے جاسوسی کے آلے کے طور پر تیار کیا ہے۔اس کے علاوہ اندازہ ہے اسے تیار کرنے میں اگر کئی برس نہیں تو کئی ماہ لازمی لگے ہوں گئے اور اسے تیار کرنے والوں نے ایسے کئی اقدامات کیے ہیں جن کی مدد سے اس کا کھوج لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔سیمنٹک میں سکیورٹی امور کے اہلکار سان جان کے مطابق:’اس میں مہارت، کاریگری اور تیار کرنے کی مدت سے اندازہ ہوتا ہے کہ بظاہر اسے مغرب کی کسی کمپنی نے تیار کیا ہے۔‘سیمنٹک نے اس کا موازانہ سٹکس نیٹ وائرس سے کیا ہے جس مبینہ طور اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو ہدف بنانے کے لیے تیار کیا تھا۔سیمنٹک کے مطابق سٹکسثنیٹ کا مقصد آلات کو نقصان پہنچانا تھا جبکہ رئجن کا مقصد بظاہر معلومات جمع کرنا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…