منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

ایف اے ٹی ایف بل کی منظوری پر اپوزیشن حکومت سے کیا سودے بازی کررہی ہے اور کون سا قانون منظور کروانا چاہتی ہے؟ شبلی فراز کا چونکا دینے والا انکشاف

datetime 26  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے بل کی منظوری کے ساتھ اپوزیشن نیب کا بل بھی منظور کروانا چاہتی ہے۔ایک انٹرویومیں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نیب قوانین سے متعلق اپوزیشن صرف اپنے لیے بات کررہی ہے تاکہ بچت کا راستہ نکل سکے۔

وزیر اطلاعات نے کہاکہ میں خود کمیٹی کا ممبر ہوں جس میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے ایف اے ٹی ایف بل کی منظوری کے لیے نیب بل کی شرط رکھی، دراصل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف ایٹی ایف) بل پر اپوزیشن ڈیل کر کے نیب بل بھی منظور کروانا چاہتی ہے۔شبلی فراز کے مطابق 25 جولائی کو الیکشن ہوئے دو سال کا عرصہ مکمل ہوگیا، ہماری حکومت کا قیام 18 اگست کو عمل میں آیا۔ اْنہوں نے کہاکہ اپوزیشن نے ملک میں رہ کر اداروں کو کمزور کیا، سرکاری اداروں میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں بھارت سے لڑنیکی ضرورت نہیں، اپوزیشن ہی کافی ہے کیونکہ اْس نے ہمارے اداروں کو اندرونی طور پر تباہ کیا۔وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت سنبھالی تو معیشت دیوالیہ ہونے کے ریب تھی، روپے کی قدر سہارے پر تھی،حکومت نے اقدامات کیے جس کے بعد اٰج صورت حال بہتر ہوئی ہے۔اْنہوں نے کہاکہ بلاول بھٹو جو سوالات ہم سے کر رہے ہیں وہ اپنے والد سے ہی پوچھ لیں، وہ زرداری سے پوچھیں سرے محل کس کا تھا،جعلی اکاؤنٹس کی کیاکہانی ہے، پاکستان میں مسٹرٹین پرسنٹ کس کو کہا جاتا تھا، پیپلزپارٹی کے چیئرمین ان باتوں کا جواب بھی قوم کو دیں کیونکہ عمران خان اپنی پوری منی ٹریل سپریم کورٹ میں پیش کرچکے ہیں اور عدالت نے ہی انہیں صادق و امین قرار دیا۔

شبلی فراز نے کہا کہ افسوس اب پیپلزپارٹی آصف زرداری کی جماعت ہوگئی ہے، قمرزمان کائرہ اور چوہدری منظورجیسے نظریاتی لوگ آج بھی بھٹو کے نظرئیے اور ویژن پر چل رہے ہیں،ان دو جماعتوں (مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی) نے مک مکا کر کے ملک اور قوم کو لوٹا۔وفاقی وزیر اطالاعات کا کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کا ادارہ پی ٹی آئی نے تو نہیں بنایاگیا،مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے اس ادارے کا سیاسی استعمال کیا اور ایک دوسرے پر مقدمات بنوائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…