بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت، پہلی مرتبہ عالمی میڈیا بھی بول پڑا، کشمیر کی آواز بننے کا اعلان

datetime 22  جولائی  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کیخلاف پہلی مرتبہ عالمی میڈیا بھی بول پڑا، عالمی میڈیا نے کشمیریوں کی آواز بننے کا وعدہ کیا ہے۔ عالمی میڈیا نے لائن آف کنٹرول کے نزدیکی سیکٹر چڑی کوٹ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے بھارت کی طرف سے مسلسل سیزفائر معاہدے کی خلا ف ورزیوں اور اشتعال انگیزیوں سے ہونیوالے تباہ کاریاں دیکھیں اور متاثرین کے ساتھ بات چیت کی۔ عالمی میڈیا کوپونچھ سیکٹر میں

سرحد پار سے علاقے دکھائے گئے جہاں سے بھارتی فوج جان بوجھ کر تمام بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھاری ہتھیاروں،مارٹر گولوں اورکلسٹر بموں کے ساتھ سول آبادی کو نشانہ بنائی ہے۔عالمی میڈیا نے ایل او سی پر آمنے سامنے فوجی چوکیوں کو دیکھا انہیں ایل اوسی پر بھارتی سرویلئینس گرڈ اور رکاوٹ پیدا کرانیوالا سسٹم بھی دکھایا گیا جو کہ ایل اوسی سے تین،چار کلومیٹر گہرائی میں واقع ہے،یہ نگرانی سسٹم تین تہوں پر مشتمل ہے،پہلی تہہ ایل او سی سے 500سے 1000میٹر نزدیک واقع ہے،جس میں بارودی سرنگیں،جاسوسی کے آلات،زیر زمین سنسر اور دور تک دیکھنے والا نظام موجود ہ۔دوسری تہہ سرحدی باڑ پر اور 1000سے 2000میٹر پر قائم ہے،جس میں خاردار تاروں سے رکاوٹیں،میدان جنگ میں استعمال ہونے والے راڈار، انسداد دراندازی سسٹم نصب ہے جبکہ تیسری تہہ لمبی پہاڑیوں،نالوں،کھائیوں اور سڑکوں پر نصب ہے۔مقامی آبادی کشمیر کی تقسیم کو مسترد کرتی ہے کیونکہ 85فیصد مسلم آبادی بھارتی مقبوضہ کشمیر جبکہ کشمیر ویلی میں 95فیصد مسلم آبادی ہے۔5اگست2019ء کو غیر قانونی اقدامات کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر پر بھارتی محاصرے کو347روز گزر گئے ہیں جہاں 9لاکھ سے زائد بھارتی فوج تعینات ہے،جن کا تناسب ہر آٹھ کشمیریوں کیلئے ایک فوجی بنتا ہے۔بھارت میں بی جے پی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں

میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔2015ء کے بعد سے اب تک بھارتی افواج نے ایل او سی پر 11815مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی۔پاک فوج دوسری جانب شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتی،کیونکہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا تمام تر عالمی اقدار اور معاہدوں کے خلاف ہے۔بھارتی فوج کا نشانہ بننے والے معصوم شہریوں میں خواتین وبچے بھی شامل ہیں۔لوگ بھارت کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کا منہ توڑ جواب دینے پر پاک فوج پر یقین کا اظہار کرتے

ہیں اور ایل او سی کے اس پار آبادی کی جانب سے آزادی کیلئے جدوجہد اور بھارتی قابض افواج کے مظالم کا بہادری سے مقابلہ کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔عوام بھادر کشمیریوں کیلئے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو جلد آزادی نصیب ہو۔ ایل اوسی کے دورے پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کوئی آر یو، سی سی ٹی وی کی نمائند ہ کا کہناتھاکہ آج میں چیر یکوٹ گئی، یہ

جگہ ایل او سی کے بہت قریب ہے۔ میں نے پہاڑ دیکھا اور میں نے وہاں رہنے والے لوگوں کو دیکھا، جو ہندوستانی فائر سے متاثر تھے۔ اس بار میں ایل او سی کی صورتحال کے بارے میں زیادہ واضح ہوں اور اس صورتحال میں رہنے والے لوگوں کے تاثرات کو سمجھی۔ میں نے ایک چھوٹے سے لڑکے کا انٹرویو کیا، جس کے کاندھے میں گولی لگنے کے سبب وہ زخمی ہوا تھا، مجھے بہت دکھ ہوا۔العربیہ کے بلال ایستال نے کہا ہم نے آج چیریکوٹ کا

دورہ کیا، اور ہم اس علاقے میں بہت سارے گولہ باری متاثرین سے بہت آزادی سے ملے، بات چیت کے دوران ہمیں مکمل آزادی حاصل تھی ہم نے ان کی باتیں سنیں۔ ان میں سے کچھ سرحد پر بھارتی گولہ باری کا نشانہ بنے اور ان میں سے کچھ زخمی بھی ہوئے۔ ہم ان کی آواز دنیا تک پہنچائیں گے۔ یہ دورہ ہمارے لئے بہت معلوماتی تھا۔ الجزیرہ کے ا حمد برکات نے کہا ایل او سی کا آج کا دورہ بہت مفید رہا۔ ہم نے سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر روزانہ گولہ باری کے متا ثرین دیکھے، ہم نے ان سے بات کی ہے۔ ہم ان لوگوں کا دکھ محسوس کرتے ہیں، ہم ان کی حمایت کر رہے ہیں۔ ہم ان لوگوں کے لئے پلیٹ فارم ہیں جن کے پاس پلیٹ فارم نہیں ہے۔ ہم نے ان لوگوں سے آزاد انہ بات چیت کی۔ میری خواہش ہے کہ اقوام متحدہ کے مبصرین ایسے معاملات کو دیکھنے اور جائزہ لینے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…