بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

کورونا سے سب سے زیادہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدورمتاثر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سروے میں اہم انکشافات

datetime 22  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)کورونا وائرس کی وبا سے معاشی طور پر سب سے زیادہ متاثر یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور ہوئے جب کہ اس وبا کا سب سے زیادہ منفی اثر طلبہ اور صحت کے شعبے سے منسلک افراد پر ہوگا۔ اس بات کا انکشاف ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سروے میں ہوا جس میں ملک کے 70 اضلاع سے 400 سے زائد افراد نے حصہ لیا۔

سروے میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوں پر اس کے منفی اثرات پر 94 فیصد نے روزگار کے چھن جانے کو سب سے اہم اثر کہا اور 49 فیصد نے تنخواہوں میں عارضی کٹوتی، 47 فیصد نے حفاظتی سامان کی عدم دستیابی جبکہ 32 فیصد نے تنخواہ کے علاوہ فوائد میں کمی کو مزدوروں پر پڑنے والے منفی اثرات کہا۔طلبہ پر منفی اثرات کے سوال پر 76 فیصد نے آن لائن کلاسز کے لیے سہولیات یعنی کمپیوٹر کی عدم دستیابی اور 59 فیصد نے انٹرنیٹ کنکشن نہ ہونے کو طلباء کیلئے کورونا کا منفی اثر کہا۔ڈاکٹرز اور صحت کے شعبے سے منسلک افراد پر کورونا کے منفی اثرات کے سوال پر 73 فیصد نے حفاظتی سازوسامان کی عدم دستیابی کو ان کے لیے سب سے اہم منفی اثر کہا۔52 فیصد نے اوور ٹائم نہ ملنے، 50 فیصد نے مریضوں کے اہل خانہ کے جانب سے دھمکیوں اور 47 فیصد نے کام کے طویل اوقات کو کورونا کے ان پر اہم منفی اثر کہا۔خواتین پر کورونا کے منفی اثرات کے سوال پر 74 فیصد نے ذمہ داریوں کے بڑھ جانے، 69 فیصد نے گھریلو تشدد کے بڑھنے، 51 فیصد نے روزگار کے کھو نے یا چھن جانے جب کہ 39 فیصد نے صحت کی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کو خواتین پر کورونا کا منفی اثر کہا۔

بچوں پر کورونا کے منفی اثرات کے سوال پر 82 فیصد نے آن لائن تعلیمی سہولیات کی عدم دستیابی ، 46 فیصد نے تشدد میں اضافے جبکہ 36 فیصد نے جبری مشقت کو بچو ں کیلئے کورونا کے اہم منفی اثرات میں گنوایا۔سروے میں یہی سوال معذور افراد کے بارے میں بھی کیا گیا جس کے جواب میں 81 فیصد نے صحت کے سہولیات کی عدم دستیابی اور 44 فیصد نے شناختی کارڈ نہ ہونے کے باعث حکومتی امداد نہ ملنے کو معذور افراد کیلیے اس وبا کا اہم منفی اثر کہا۔

مخنث افراد کیلئے 61 فیصد نیکہا کہ حکومتی امداد تک رسائی میں امتیاز ، 48 فیصد نے صحت کی سہولیات اور 31 فیصد نے این جی او ز کی جانب سے دی جانیوالی امداد میں امتیاز کو مخنث افراد کیلئے کورونا کے سب سے اہم منفی اثرات میں گنوایا۔مذہبی اقلیتوں کے لیے بھی53 فیصد نے صحت کی سہولیات دینے میں امتیاز، 50 فیصد نے حکومتی امداد اور 42 فیصد نے این جی اوز کے جانب سے ملنے والی امداد میں امتیاز کو مذہبی اقلیتوں کیلیے اہم منفی اثر کہا۔سب سے آخر میں عمر رسیدہ افراد پر کورونا کے منفی اثرات کے سوال پر 78 فیصد نے لوگوں سے محدود میل جول کے باعث سماجی تنہائی، 68 فیصد نے صحت کی سہولیات تک محدود رسائی اور 29 فیصد نے روزگار کے کھو جانے کو عمر رسیدہ افراد پر کورونا کے منفی اثرات میں گنوایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…