بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

جب اپنا بچہ سرکاری سکول میں پڑھے گا تو گائیں نہیں بندھیں گیپی ٹی آئی رہنما عالمگیر خان نے سندھ حکومت پر برس پڑے

datetime 22  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی عالمگیر خان نے سندھ حکومت پر برس پڑے اور کہاہے کہ کچرا کر نے میں سندھ حکومت کا ہاتھ ہے ،کراچی میں گندگی پھیلائی،جب اپنا بچہ سرکاری سکول میں پڑھے گا تو گائیں نہیں بندھیں گی، سب ایم این ایز کو اپنے بچوں کو سر کاری سکول میں پڑھانے کیلئے پابند کیا جائے ،میں سندھ کے سکول کے معاملے پر

قراداد لاؤگا امید ہے ہاؤس اسکو سپورٹ کریگا،ہمارا علاج بھی سرکاری ہسپتالوں میں کیا جائے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ کراچی میں پولیس لوگوں کو تنگ کر رہی ہے اور رشوت لے رہی ہے ،اس وبا کیساتھ جینا ہے تو ایس او پیز بنانے ہیں، ٹرانسپورٹر ایس او پیز پرعملدرآمد کیلئے تیار ہیں لیکن پتہ نہیں وزیر ٹرانسپورٹ سندھ کو خرچہ چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ کراچی میں 30 منٹ کی بارش پر ساری کارکردگی سامنے آجاتی ہے ،میئر کراچی صفائی کے پیسے کیلئے روتا ہے ،ورلڈ بنک کراچی کے نالوں کی صفائی کیلئے پیسے دیتا ہے ،کچرا کرنے میں سندھ حکومت کا ہاتھ ہے اور انہوں نے کراچی میں گندگی پھیلائی۔ انہوںنے کہاکہ ہم سب ایم این اوز کو پابند کیا جائے کہ ہمارے بچے سرکاری سکول میں ہوں ،جب اپنا بچہ سرکاری سکول میں پڑھے گا تو گائیں نہیں بندھیں گی،میں سندھ کے سکول کے معاملے پر قراداد لاؤگا امید ہے ہاؤس اسکو سپورٹ کریگا۔ انہوںنے کہاکہ ہمارا علاج بھی سرکاری ہسپتالوں میں کیا جائے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…