ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

دیامربھاشاڈیم کی تعمیر ، بھارتی میڈیا بوکھلاہٹ کا شکار وزیراعظم عمران خان سے متعلق گھٹیا زبان کا استعمال

datetime 21  جولائی  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بوکھلاہٹ کے شکار بھارتی میڈیا نے چین کے اشتراک سے بننے والے دیامر بھاشا ڈیم کو پاکستان کے لیے سب سے بڑا’’کلنک‘‘قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق بھارتی اینکر کا ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہنا تھا کہ چین لداخ کے مقام پر بھارتی سپاہیوں کے ہاتھوں پسپا ہونے کے باوجود گلگت بلتستان کے علاقے میں پاکستان کے ساتھ مل کر ایک ڈیم بنا رہا ہے جس کا بھارت کی جانب سے ’’ورود‘‘ بھی کیا گیا۔

بھارتی اینکر بار بار اپنی انتہا پسند حکومت کو خوش کرنے کے لئے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو ’’لنگڑا خان‘‘کہہ کر مخاطب کرتا رہا۔بوکھلاہٹ کا شکار بھارتی اینکر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے دیامر بھاشا ڈیم کا دورہ بھی کیا تھا، جہاں انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کا سب سے بڑا منصوبہ ہے لیکن وہ یہ عوام سے چھپا رہے ہیں کہ یہ منصوبہ پاکستان کے لئے اب تک کا سب سے بڑا کلنک ثابت ہوگا۔بھارتی اینکر کا ہزرہ سرائی کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان یہ تو بتا رہے ہیں کہ اس ڈیم کو بنانے کا فیصلہ 50 سال پہلے کر لیا گیا تھا لیکن اس پر تعمیراتی کام اب شروع کیا گیا ہے، لیکن وہ اپنی عوام کو یہ نہیں بتا رہے کہ انہوں نے چین کے ہاتھوں اس ڈیم کو کتنے میں بیچا ہے؟بھارتی اینکر کی جانب سے جھوٹ کی انتہا تب کی گئی جب اس نے جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان جو ایک متنازع علاقہ ہے اس پر دیامیر بھاشا ڈیم بنانے کے خلاف گلگت بلتستان کی عوام مزاحمت کر رہی ہے، لیکن عمران خان اپنی دوستی نبھانے میں مصروف ہیں، لیکن عمران خان کو یہ نہیں معلوم کہ چینی ڈریگن کس طرح سے ان کے ملک کو نگل جائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…