منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کے غسل خانے کی تزئین و آرائش کیلئے 25 ہزار ڈالرمنظور،سرکار ی رہائش گاہ پر پہلے ہی کتنی بھاری رقم خرچ کی جا چکی؟ہوشربا انکشافات

datetime 21  جولائی  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزارت خارجہ نےنیویارک میں قائم اقوام متحدہ میں اپنے مستقل مندوب کی سرکاری رہائش گاہ کے غسل خانے کی تزئین و آرائش کیلئے 25 ہزار ڈالرز تقریباً42 لاکھ روپے خرچ کرنے کی منظوری دیدی۔روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی شائع خبر کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی سرکاری رہائش گاہ

کی تزئین و آرائش کے نام پر پہلے ہی سفارت خانے کے اکاؤنٹ سے 50ہزار ڈالرز خرچ کیے جا چکے ہیں اور اب اضافی 25ہزار ڈالرز صرف ماسٹر باتھ روم کی تزئین و آرائش پر خرچ کرنے کی منظوری دی ہے۔ 24جون 2020ء کو وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے اور مستقل مندوب کو لکھے گئے خط میں لکھا ہے کہ سیکرٹری خارجہ نے 25ہزار ڈالرز کی منظوری دی ہے اور اس رقم کو مستقل مندوب کے ماسٹر باتھ روم کی مرمت اور تزئین و آرائش پر خرچ کیا جائے گا، بشرطیکہ ضابطے کی کارروائی مکمل کی جائے۔مستقل مندوب فنڈز کی منتقلی کیلئے نیویارک میں قونصل جنرل کو متعلقہ بینک کی تفصیلات فراہم کریں۔ قوصل جنرل نیویارک اپنے FIGOB اکاؤنٹ سے مستقل مندوب کے اکاؤنٹ میں 25 ہزار ڈالرز منتقل کریں۔ ذرائع کے مطابق، 25ہزار ڈالرز کی تازہ ترین منظوری ایک ایسے باتھ روم کو سجانے کیلئے کیا جانے والا وہ اضافی خرچہ ہے جو پہلے ہی اچھی حالت میں ہے۔ذریعے نے کہا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم پہلے ہی نیویارک میں مقیم ہیں اور ان کے پاس نیویارک سے باہر رہائش گاہ تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری رہائش گاہ کی تزئین و آرائش کیلئے 2لاکھ 25ہزار ڈالرز کی رقم اضافی منظور کردہ 25 ہزار ڈالرز کے علاوہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سفارت خانے کے اکاؤنٹ سے 50؍ ہزار ڈالرز پہلے ہی خرچ کیے جا چکے ہیں۔ذریعے کا کہنا تھا کہ یہ فالتو اخراجات ہیں خصوصاً ایسے حالات میں جب ملک کی معاشی صورتحال پریشان کن ہے، اس معاملے کی انکوائری ہونا چاہئے، یہ اخراجات وزیراعظم عمران خان کی سادگی اور کفایت شعاری کی پالیسی کی بھی خلاف ورزی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…