ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

150روپے چوری کرنیوالے چورکی گرفتاری سے 30اہلکارکرونا کا شکار،2تھانے بند کر نے پڑ ے،پولیس افسران چکرا کر رہ گئے

datetime 19  جولائی  2020 |

ہزاری باغ(این این آئی)بھارت میں کورونا وائرس سے متاثر ایک چور پولیس کے بڑا درد سر بن گیا، جو اب تک 30 پولیس اہلکاروں کو کووڈ 19 کا شکار بنانے کے ساتھ ساتھ 2 تھانوں کی بندش کا باعث بن چکا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ریاست جھاڑکھنڈ کے علاقے ہزاری باغ میں اس چور کو ایک دکان سے 150 روپے کی چوری پر 10 دن قبل گرفتار کیا گیا۔

جس کے بعد اس کا کورونا وائرس ٹیسٹ ہوا۔ٹیسٹ میں چور میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی جو پولیس اہلکاروں کے لیے بری خبر ثابت ہوئی۔گرفتاری کے بعد سے یہ چور 3 بار پولیس کی حراست سے فرار ہوچکا ہے اور اسے پکڑنے کی کوششوں کے دوران متعدد پولیس اہلکار وائرس سے متاثر ہوگئے۔پولیس اہلکاروں کو مزید مشکلات کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب چور کی جانب سے انہیں چھونے اور بیماری پھیلانے کی دھمکیاں گرفتار کرکے جیل بھیجنے کی کوشش کے دوران دی جاتی ہیں۔سب سے پہلے یہ چور ہزاری باغ کے ایک سرکاری ہسپتال کے کووڈ 19 وارڈ سے فرار ہوا، جہاں اسے کووڈ 19 کی تصدیق کے بعد داخل کیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق یہ چور ہسپتال میں ایک کھلے ایئر وینٹ سے فرار ہوا تھا، جسے پولیس نے ایک گھنٹے کے پکڑ بھی لیا، مگر اس کی قیمت 30 اہلکاروں کو کووڈ 19 کا شکار ہوکر چکانا پڑی۔دوسری بار اس چور کو ایک بار پھر اسی ہسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں سے 2 دن بعد وہ پھر فرار ہوگیا، اس بار وہ باتھ روم کی کھڑکی سے چھلانگ لگا کر نکلا۔پولیس نے 30 گھنٹے کی محنت کے بعد اسے پھر گرفتار کرلیا۔اس بار پولیس اہلکار زیادہ محتاط تھے اور چور کو ہزاری باغ سے سو کلومیٹر دور رانچی کے ایک زیادہ محفوظ راجندرا انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز میں داخل کرانے کے لیے بھیجا گیا۔

مگر وہ اس ایمبولینس سے رات کی تاریکی میں چھلانگ لگا کر فرار ہوگیا جس سے اسے لے جایا جارہا تھا۔اس نامعلوم چور کو اس بار مقامی دیہاتی افراد نے دیکھ کر پوچھ گچھ کی تو اس نے انہیں کورونا وائرس کا شکار بنانے کی دھمکی دی، جس کے بعد مقامی افراد نے پولیس سے رابطہ کیا اور چور کو پھر گرفتار کرلیا گیا۔ہزاری باغ کے ضلعی ایس پی کارتھک ایس کا کہنا تھا کہ وہ چور ہمارے لیے درد سر بن گیا ہے، وہ 10 دن میں پولیس کی حراست سے 3 بار فرار ہوچکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…