منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

بھارتی پائلٹ کو اللہ کے حکم پر نہیں امریکہ کے حکم پرچھوڑا گیا،مہربانی کر کے ریاست مدینہ کا نام لینا چھوڑ دیں،اپوزیشن کی حکومت پرچڑھائی

datetime 17  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) سینیٹ میں اپوزیشن اراکین نے کہاہے کہ اچھی بات ہے امریکہ سے نہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے ،بھارتی پائلٹ کو اللہ کے حکم پر نہیں امریکہ کے حکم پرچھوڑا گیا ،پچاس لاکھ گھر تو دور کی بات ایک گھر تک نہیں بنایا گیا،جی ڈی پی مائنس چار پر ہے،مہربانی کر کے ریاست مدینہ کا نام لینا چھوڑ دے۔

اگر ایسا نہیں کر سکتے تو سود لینا چھوڑ دے ،کیا پی آئی اے کی نجکاری جا رہی ہے؟،ٹرمپ بھی روزویلٹ ہوٹل خریدنے کا خواہاں ہیں،پی آئی اے کے معاملے پر کمیٹی آف ہول بنایا جائے جبکہ وزیر مملکت علی محمدخان نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جوحکومت تنقید نہ سنے تو اصلاح کیسے ہو سکتی ہے،ہم ستر سالوں سے اللہ کی نافرنی کر رہے ہیں،مدینہ کی ریاست کی بات کرنا اعزاز ہے،سودی نظام کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا حکم بھی ہے ابھی نندن کو کسی کی دباؤ پر رہا نہیں کیا گیا۔ جمعہ کو سینٹ میں مفاد عامہ کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہاکہ وزیراعظم کو دوسوارب ڈالر کی بات کس نے سنائی؟اچھی بات ہے کہ امریکہ سے نہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ پلوامہ واقعے کے بعد دو پائلٹس کو اللہ کے حکم پر نہیں امریکہ کے کہنے پرچھوڑا گیا،سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی گئیں،55سال ہی کرنا ہے تو صدر،وزیراعظم کیلئے بھی کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ چین نے چاہ بہار کیساتھ ملکر چار سو بلین ڈالر سرمایہ کا معاہدہ کیا ہے تو اس کا مطلب ہے سی پیک پر کام نہیں رہا تھا،ان دو سالوں میں پاکستانیوں سے انتقام لیا گیا،ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ پچاس لاکھ گھر تو دور کی بات ایک گھر تک نہیں بنایا گیا،جی ڈی پی مائنس چار پر ہے،مہربانی کر کے ریاست مدینہ کا نام لینا چھوڑ دے،اگر ایسا نہیں کر سکتے تو سود لینا چھوڑ دے۔وزیر مملکت علی محمد خان نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ جو حکومت تنقید نہ سنے تو اصلاح کیسے ہو سکتی ہے،ہم ستر سالوں سے اللہ کی نافرنی کر رہے ہیں،مدینہ کی ریاست کی بات کرنا اعزاز ہے،سودی نظام کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا حکم بھی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ابھی نندن کے حوالے سے ان کیمرا بریفینگ دی گئی،ابھی نندن کو کسی کی دباؤ پر رہا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک پر کوئی رول بیک نہیں،یہ اسٹرٹیجک ایسڈبننے جا رہا ہے۔سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا وزیر ہوا بازی کے قومی اسمبلی میں بیان کے بعد یورپ کیلئے پی آئی اے کی سروسز معطل ہوئیں،تباہی بند ہونے کے قریب ہے،اس کو بند کرنے کی وجوہات کا جاننا ضروری ہے،کیا پی آئی اے کی نجکاری جا رہی ہے؟

،ٹرمپ بھی روزویلٹ ہوٹل خریدنے کا خواہاں ہیں،پی آئی اے کے معاملے پر کمیٹی آف ہول بنایا جائے،پی ٹی آئی اے بیٹھ گیا تو پاکستان کیلئے بے عزتی ہو گی۔ قائد ایوان سینیٹر وسیم شہزادا نے کہاکہ محترمہ بینظیر کی شہادت پر بہت دکھ ہے،انکی شہادت کے بعدپیپلزپارٹی کی حکومت بنی،اس واقعے کی تحقیقات ہوتیں اور ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچایا جاتا۔ انہوں نے کہاکہ سٹیل ملز اور پی آئی اے میں گزشتہ ادوار میں سیاسی بھرتیاں ہوئیں،میرٹ کی پامالی ہوتی رہیں یہ واضح حقیقت ہے۔ انہوںنے کہاکہ چاہ بہار میں انڈیا کی موجودگی ہمارے مفاد میں ہے یا چین کی موجودگی ۔انہوں نے کہاکہ گوادر اور چاہ بہار سسٹر سٹیز بنیں گی،اگر ہم ریاست مدینہ میں رہ رہے ہوتے تو کوئی گنجائش ہی نہیں بچتی۔ انہوںنے کہاکہ حکومت اور اپوزیشن کا قومی مفادات پر اتفاق ہیں،سی پیک پر بھی قومی اتفاق ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…