اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

مویشی منڈی کے نئے اوقات کار سے شہری پریشان، حکومتی فیصلہ مسترد

datetime 14  جولائی  2020 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے شہریوں نے حکومت کی جانب سے مویشی منڈیوں کے نئے اوقات کار مسترد کردیئے، نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دفتر کے اوقات میں کیسے منڈی جائیں، اتنے کم وقت میں خریداری ممکن نہیں۔وفاقی حکومت نے ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں خریداروں کیلئے صبح 6 سے شام 7 بجے تک اوقات کار مقرر کردیئے،

جس کے بعد کراچی کے عوام نے حکومتی فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔وفاقی وزیر اسد عمر کی زیرصدارت این سی او سی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مویشی منڈیوں کے اوقات کار صبح 6 سے شام 7 بجے تک ہوں گے اور تمام ایس او پیز پر علمدرآمد کرایا جائے گا۔حکومتی فیصلے پر کراچی کے شہریوں نے کہاکہ ایسا نہیں ہوسکتا ہم دفتر کے وقت کیسے مویشی منڈی جائیں گے؟، ہم صبح 8 بجے گھر سے دفتر کیلئے نکلتے ہیں اور شام 7 بجے گھر واپسی ہوتی ہے اور شام کے وقت تھوڑا آرام کرکے ہی قربانی کا جانور خریدنے کیلئے نکلتے ہیں۔شہریوں نے کہا کہ اتنے تھوڑے وقت میں قربانی کا جانور کیسے خریدیں گے جبکہ ہمارے دفتر کے اوقات ہی شام تک کے ہیں، سپرہائی وے کراچی پر شہر سے دور قائم مویشی منڈی میں وفاقی احکامات سے بے خبر شہری شام 7 بجے کے بعد بھی قربانی کے جانوروں کی خریداری کرتے ہوئے نظر آئے۔شہریوں نے کہاکہ حکومت ہوش کے ناخن لے، ایک تو ہمارے پاس روزگار نہیں ہے، دوسرا بلاوجہ کی پابندیاں لگانے سے شہری مزید پریشانی کا شکار ہوجائیں گے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ 24 گھنٹے قربانی کے جانوروں کی خریداری کی اجازت سے رش میں اضافے کے بجائے کمی آئے گی اور لوگ آسانی سے اپنے لئے قربانی کا جانور خرید سکیں گے، حکومت سے گزارش ہے کہ لوگوں کو مشکل میں ڈالنے کے بجائے آسانی پیدا کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…