اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’ ڈاکٹرز کے ہاتھو ں ڈاکٹر کی موت‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔ہمارے دلوں پر جو بیتی اور جو بیت رہی ہے میں وہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا تاہم میری آپ اور اس قوم سے التجا ہے ہمارے نقصان کا بدلہ اور انصاف اس دنیا میں ممکن نہیں ‘اس کا فیصلہ روز قیامت ہو گا لیکن ریاست کو کم از کم ڈیوٹی پر موجود تمام ڈاکٹرز کے
لائسنس ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کینسل کر دینے چاہییں تا کہ یہ دوسرے تمام ڈاکٹرز کے لئے نشان عبرت بن سکیں اور کسی دوسرے سلمان کے ساتھ ایسا نہ ہو۔میری حکومت پنجاب سے بھی اپیل ہے اس واقعے کا حل کمیٹیاں نہیں ہیں۔ڈاکٹرز کبھی اپنے ڈاکٹرز کے خلاف فیصلہ نہیں کریں گے‘ کمیٹیوں کے بجائے اس کا حل اس سسٹم کو ٹھیک کرنا ہے اور عبرت کے طور پر ڈیوٹی پر موجود تمام ڈاکٹرز خصوصاً ڈاکٹر کاشف ملک اور ڈاکٹر افضال آفتاب خان کو فوری سزا دی جائے اور آئندہ کے لیے ایسا سسٹم بنایا جائے کہ پھر کبھی کسی ماں کے پیارے بیٹے کے ساتھ ایسا نہ ہو۔میرا بھائی اس دنیا سے چلا گیا لیکن پاکستان کے ہیلتھ سسٹم پر ایک سوالیہ نشان چھوڑ گیا‘ یہ آج بھی کہہ رہا ہے”میں تو ایک ڈاکٹر تھا‘ میرے ساتھ یہ سلوک کیا گیا تو عام انسانوں کے ساتھ یہ جاہل اور گنوار ڈاکٹرز کیا کرتے ہوں گے“ ۔ہم کس ملک میں رہ رہے ہیں آپ ذرا تصور کیجیے‘ ایک ایسا ملک جس میں ڈاکٹرز کو بھی ہسپتال میں علاج نہیں ملتا‘ یہ ہے ہمارا ہیلتھ سسٹم۔کیا ہم اس سسٹم کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں؟ میں یہ سوال وزیراعظم‘ مشیر صحت اور پنجاب کی وزیرصحت کے لیے چھوڑ رہا ہوں اور آپ سے درخواست کرتا ہوں آپ اللہ سے روز صحت کی دعا کیا کریں‘ کیوں؟ کیوں کہ آپ نے اگر خدانخواستہ ایک بار کسی ہسپتال کی سیڑھیوں پر قدم رکھ دیا تو پھر آپ یاد رکھیں وہاں سے ڈاکٹر سلمان کی طرح آپ کا تابوت ہی واپس آئے گا۔



















































