بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

یورپ کے ٹیکس چورڈرگئے

datetime 28  جون‬‮  2015 |

زیوریخ(نیوزڈیسک) یورپی ممالک کے غیر اعلانیہ اکاونٹس سے نجات حاصل کرنے کے لیے سوئیزر لینڈ کے پرائیویٹ بینکوں نے صفائی کے کام کا آغاز کردیا ہے۔مالی بحران کو مد نظر رکھتے ہوئے اورمختلف حکومتوں کی جانب سے زیوریخ اور جینوا کے بینکس کے خفیہ اکاونٹس تک رسائی حاصل کرنے کی کوششوں کے بعد، یورپ کے مالدار سوئیزرلینڈ کے معروف بینک کے سیکیورٹی رولز کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ٹیکس کی چوری کرنے والے ہائی پروفائل افراد کی مبینہ گرفتاری کے باعث یورپی ممالک کے شہریوں کی بڑی تعداد اپنے ٹیکس اور جرمانوں کی ادائیگی کے لیے رضاکارانہ طور پر اکاو¿نٹس بند کرنے کے پروگرام میں شمولیت اختیار کررہی ہے۔اربوں فرانکس کی رقم نکالے جانے کے بعد یو بی ایس کی جانب سے جاری ہونے والے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق کوائف کی واپسی شروع ہو رہی ہے۔رواں سال کے پہلے تین ماہ کے حوالے سے زیوریخ سے تعلق رکھنے والے ایک بینک نے رپورٹ کیا ہے کہ سہ ماہی میں ہونے والا اضافہ گذشتہ تین سالوں میں یورپی اثاثوں کے اعتبار سے سب سے زیادہ ہے اور یہ بینکوں کے ویلتھ مینجمنٹ اور بینک انویسمنٹ کو کم کرنے کے فیصلے کا جواز پیش کررہا ہے۔سٹی کے ایک تجزیہ کار کینر لاکھانی کا کہنا ہے کہ ’صنعتوں اور خاص طور پر یو بی ایس میں ہمارے پیچھے یورپ کے باہر سے ہونے والی رقم کی منتقلی ہے‘۔بوسٹن کنسلٹنگ گروپ کی ایک اسٹیڈی کے مطابق آنے والے سالوں میں مغربی یورپ کی دولت کے حجم میں ہونے والا اضافہ دنیا کے مقابلے میں کم رفتار ہوگا۔اس کے باوجود ان بینکوں کے یورپی کلائینٹس اپنی دولت کی حفاظت کے لئے ان بینکوں کو بڑی بڑی رقم ادا کررہے ہیں۔خفیہ اکاو¿نٹس کے کھاتوں کو کلئیر کرنا کوئی آسان حدف نہیں ہے۔ایک معرف سوئس بینکر کے لگائے گئے اندازے کے مطابق انھوں نے مالیاتی بحران سے قبل 80 فیصد بینکوں کے اثاثوں کے کھاتے ترتیب دیے ہیں۔سوئس بینکس ایسوسی ایشن کے مطابق 2014ء کے اختتام تک سوئس بینکس میں 95 فیصد جرمن اثاثے موجود تھے جن کے بارے میں ایک تخمینہ لگایا جارہا کہ وہ سال 2015ء میں 100 فیصد تک ہوجائے گے۔خیال رہے کہ فرانس، برطانیہ اور آسٹریا کے ٹیکس چوروں کو بھی خود سے اپنے خفیہ اکاو¿نٹس کو بند کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…