ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

عزیر بلوچ، سانحہ بلدیہ اور نثار مورائی کی جے آئی ٹیز پبلک کر دی گئیں،اپ لوڈ ہوتے ہی محکمہ داخلہ کی ویب سائٹ کا سرور ڈائون ہو گیا

datetime 6  جولائی  2020 |

کراچی (این این آئی) سندھ حکومت نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ، سانحہ بلدیہ فیکٹری اور نثار مورائی کی جوائنٹ انویسٹی گیشن رپورٹس پبلک کر دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق تینوں جے آئی ٹی رپورٹس محکمہ داخلہ سندھ کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ جے آئی ٹی رپورٹس اپ لوڈ ہوتے ہی محکمہ داخلہ سندھ کی ویب سائٹ کا سرور ڈائون ہوگیا۔ لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ 36 صفحات

پر مشتمل ہے جس میں اہلخانہ، حبیب جان، حبیب حسن، سیف علی، نور محمد سمیت درجنوں دوستوں کے نام شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ نے 198افرادکو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ عزیر بلوچ نے لسانی اور گینگ وار تنازع میں تمام افراد کو قتل کیا جبکہ عزیربلوچ نے اثر و رسوخ کی بنیاد پر 7ایس ایچ اوز تعینات کرائے۔ عزیر بلوچ نے اقبال بھٹی کو ٹی پی او لیاری تعینات کرایا اور 2019 میں محمد رئیسی کو ایڈمنسٹر لیاری لگوایا۔ ملزم متعدد پولیس اوررینجرز اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم کے بیرون ملک فرار کے باوجود ماہانہ لاکھوں بھتہ دبئی بھیجاجاتا رہا۔ 2008 سے2013 کے دوران مختلف ہتھیار خریدنے، پاکستان اور دبئی میں غیرقانونی اثاثوں کا انکشاف بھی کیا ہے۔ عزیربلوچ کی جے آئی ٹی میں اس کے16رکنی اسٹاف کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو گینگ وار میں بلاواسطہ اور براہ راست ملوث تھا۔ عزیربلوچ کو2006 میں ٹھٹھہ کے علاقے چوہڑجمالی سے گرفتار کیا گیا۔ عزیربلوچ کو 7 کیسز میں چالان کیا گیا اور 10ماہ جیل سے رہا ہوگیا۔ عزیربلوچ نے 10سے زائد کارندوں کو ایران ودیگرممالک بھجوانے، گینگسٹرز کو مدد دینے والے افسران کی تقرریاں کرانے کا اعتراف اور آپریشن میں اپنے استاد تاجو کو دبئی پھر افریقہ منتقل کرانے کا اعتراف کیا۔ عزیربلوچ نے اسلحہ لالہ توکل اور سلیم پٹھان سے خرید کر ساتھیوں کو دینے اور ایران سے پیدائشی سرٹیفکیٹ،

شناختی کارڈ اور پاسپورٹ لینے کا اعتراف بھی کیا۔ ایران سے بوگس شناختی دستاویزات بنوانے میں خاتون عائشہ نے ساتھ دیا۔ عزیر بلوچ نے2009کے بعد اسلحہ اپنے ساتھیوں کودینے کااعتراف کیا۔ عزیربلوچ کی ہدایت پرگینگ وار کارندے مال بردار ٹرک لوٹتے تھے اور مال بردارٹرک فروخت کرنے کے بعد 15 لاکھ کاحصہ دیا جاتا تھا۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں عزیربلوچ پر آرمی ایکٹ کے تحت جاسوسی کامقدمہ چلانے سمیت دیگر سفارشات کی گئی ہیں۔ عزیر بلوچ نے غیرملکیوں کیلئے جاسوسی کی۔ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی اس لیے نشاندہی پر برآمد اسلحہ اور بارودی مواد پر نیا مقدمہ درج کیاجائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…