منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

امریکی رکن کانگریس کا مقبوضہ کشمیر میں مسلسل فوجی لاک ڈاؤن اور انسانی حقوق کی پامالیوںپر اظہار تشویش، ایسا اعلان کردیا کہ بھارت کی نیندیں اڑ گئیں

datetime 6  جولائی  2020 |

نیویارک (این این آئی) امریکی خاتون رکن کانگریسYvette Clarke نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مسلسل فوجی لاک ڈاؤن کی وجہ سے کشمیریوں کی حالت زار کو امریکی کانگریس میں اٹھائیں گی۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انہوں نے یہ بات نیویارک شہر کے ایک نواحی علاقے بروک لین میں امریکی یوم آزادی کے سلسلے میں

منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پاکستانی امریکی ایسوسی ایشن نیویارک کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں پر تشویش ہے ۔ انہوں نے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔بھارت نے گزشتہ سال اگست میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے علاقے میں فوجی لاک ڈاؤن اورکرفیو نافذ کردیا تھا، مواصلات کے رابطے منقطع کردیے تھے اور ہزاروں کشمیریوں خاص کرنوجوانوں کو گرفتارکیاتھا۔ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی یویٹی کلارک نے کہاکہ امریکہ میں ایک اچھی انتظامیہ اور ایک اچھا سکریٹری خارجہ کشمیریوں پرڈھائے جانے والے مظالم کو چیلنج کریں گے اور ان سے نمٹیں گے۔انہوں نے کہاکہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جابرانہ لاک ڈاؤن میں کشمیریوں کو درپیش مسائل کو کانگریس میں اجاگر کریں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…