جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

حکومت صرف کاغذی کارروائی کرتی ہے فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں، چیف جسٹس گلزار احمدکے تہلکہ خیز ریمارکس

datetime 26  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ حکومت کو معلوم ہی نہیں کہ کرنا کیا ہے، حکومت صرف کاغذی کارروائی کرتی ہے فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں ہے۔عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے نجی دوا ساز کمپنی کی جانب سے قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ

پاکستان میں ادویات سازوں کی بہت بڑی مافیا ہے، کیا وفاقی کابینہ نے ادویات کی قیمتوں سے متعلق کوئی فیصلہ کیا؟اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ معاملہ کابینہ نہیں ٹاسک فورس کو بھیجا گیا تھا، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے ٹاسک فورس فیصلہ کرنے کے بجائے معاملے پر بیٹھ ہی گئی ہے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) آخر کیا کر رہی ہے؟، حکومت کو معلوم ہی نہیں کہ کرنا کیا ہے، حکومت صرف کاغذی کارروائی کرتی ہے فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت خود کچھ کرتی نہیں فیصلے کرنے کے لیے معاملہ ہمارے گلے ڈال دیا جاتا ہے، ادویات کمپنیاں ہوں یا خریدار سب ہی غیر یقینی صورتحال میں رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دوا ساز کمپنیاں خام مال خریداری کے نام پر سارا منافع باہر بھیج دیتی ہیں، ڈریپ کہتی ہے کہ مٹھی گرم کرو تو سارا کام ہوجائے گا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ افسوس ہوتا ہے کہ حکومت کوئی کام نہیں کر رہی، حکومت خود فیصلہ کرتی نہیں اور ہائی کورٹ کے فیصلے چیلنج کرتی ہے۔سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نجی کمپنی نے باسکوپان نامی دوا مارکیٹ سے غائب کر رکھی ہے، دوا کی قیمت پوری نہ ملے تو مارکیٹ سے غائب کر دی جاتی ہے، اس پر جسٹس اعجاز الاحسن بولے کہ ڈریپ بروقت فیصلہ نہ کرے تو مقررہ مدت کے بعد ازخود قیمت بڑھ جاتی ہے۔عدالتی ریمارکس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نجی کمپنی نے 8 ادویات کی قیمتیں بڑھائیں، ڈریپ نے ایکشن لیا تو سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع دے دیا۔بعد ازاں عدالتی عملے کی جانب سے یہ بینچ کو بتایا گیا کہ نجی کمپنی کے وکیل دوسری عدالت میں مصروف ہیں، جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…