ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

ہسپتال میں ڈاکٹر نہ ہونے سے نوجوان کی موت، انتہائی افسوسناک واقعہ

datetime 19  جون‬‮  2020 |

لورالائی(این این ائی) لورالائی ٹیچنگ ہسپتال میں آج ایک بار پھر ایک نوجوان مطیع اللہ والد طواب زخپیل ڈاکٹر نہ ہونے کے وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ مظاہرین نے لاش اٗ ٹھا کر ڈپٹی کمشنر لورالائی کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا ۔دھرنے سے سٹیزن ایکشن کمیٹی لورالائی کے چیئرمین محمد اخلاص حمزہ زئی انصاف پینل کے اسفندیار کاکڑ سٹیزن ایکشن کمیٹی لورالائی کے ڈپٹی چیئرمین فقیر محمد جلالزئی ماسٹر سلطان اتمان خیل ،

جماعت اسلامی کے ضلعی امیر زکریا خان ملازئی ، یوتھ کے صدر عصمت کنڈی ،مطیع اللہ کے والد طواب زخپیل نے خطاب کیا خادم لورالائی محمد اخلاص حمزہ زئی نے کہا کہ لورالائی ٹیچنگ ہسپتال سے لورالائی کے عوام کسی بھی صورت مطمین نہیں ہے تین درجن ڈاکٹر میں سے ہسپتال کا کوئی شعبہ فعال نہیں ہے ایمرجنسی شعبہ حادثات غیر فعال ہے گائنی وارڈ میں لیڈی ڈاکٹر ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوتے ہے آئی روز لوگ مریض علاج کیلئے ہسپتال لاتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کے نہ ہونے کے وجہ سے وہ وفات ہوجاتے ہیں آج مطیع اللہ زخپیل کے ہلاکت اس کے واضع ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ لورالائی کے عوام اب مجبور ہوچکے ہیں کہ وہ روڈوں پر نکلا آئے ڈپٹی کمشنر فیاض علی نے آکر دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کی کہ ہم آپ کے تمام جائزمطالبات کو مانتے ہیں دھرنے کے شرکاء نے اپنے مطالبات پیش کی کہ مطیع اللہ کے والدکے ساتھ ہم مالی تعان کریں گے اور ان کے دوسرے بھائی کے علاج کے تمام اخراجات ضلعی انتظامیہ برداشت کریں گے ،ڈیوٹی میں غفلت کرنے والے ڈاکٹر کے خلاف قانونی کاروائی کیا جائے گا۔ اورہسپتال کے تمام ڈاکٹربشمول لیڈی ڈاکٹر ڈیوٹی کا پابند ہوگا اور ہسپتال میں موجود ہر قسیم دوائی مریضوں کو فراہم کیا جائے ڈپٹی کمشنر کے ساتھ تحریری معاہدہ کیا اگر اس پر عمل در آمد نہیں ہوا تو ایک ہفتے کے بعد کوئٹہ اور ڈی جی خان روڈ کو جام کریں گے اور ان کے ساتھ شٹرڈاوٰن ہڑتا ل بھی زیر غور ہوگا بعد میں دھرنے کے شرکاء نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا اور روڈ کو ہر قسیم کے ٹریفک کیلئے کھول دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…