جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

لاہور میں کورونا وائرس نے سنسنی پھیلا دی، ایک ہی دن میں 50 افراد کی موت

datetime 16  جون‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن) صوبائی دارلحکومت لاہور میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا میں مبتلاء مزید 50 افراد اپنی زندگیاں گنوا بیٹھے جس کے بعد لاہور میں کرونا وائرس سے اموات کی تعداد 380 جبکہ کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 27 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔ یہ سلسلہ بدستور جاری رہے۔ دوسری جانب ڈاکٹر طاہر شمسی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے علاج کے لئے ملک بھر میں اب تک 230سے زائد مریضوں

کو پلازمہ فراہم کیا جاچکا ہے، پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق تقریبا 20 ہزار افراد کے پلازمہ کی ضرورت ہے جس کیلئے ہمیں طویل سفر طے کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز کے سربراہ ڈاکٹر طاہر شمسی نے فارما سیوٹیکل کمپنی ہلٹن فارما کے تحت منعقدہ ویب سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ہلٹن فارما پاکستان میں کورونا وائرس کے آغاز سے ہی اپنی تحقیقی گرانٹ اور تکنیکی معاونت کے ذریعے این آئی بی ڈی کے ساتھ پلازمہ تھراپی کے تجربات میں معاونت فراہم کررہا ہے۔ اس ویب سیمینار ہلٹن فارما کے آفس میں منعقد ہوا جس میں پاکستان بھر کے ڈاکٹروں اور ہیلتھ کیئر پروفیشنلز نے شرکت کی جس میں ڈاکٹروں کو پلازمہ کے حصول کا عمل دکھایا اور واضح کیا کہ کورونا سے صحت یاب مریض چار سے پانچ بار پلازمہ عطیہ کرسکتا ہے اور ہر بار ملنے والے پلازمہ سے دو مریضوں کی مدد ہوسکتی ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہا کہ معاشرے میں ایسے افراد بغیر علامات کے ساتھ موجود ہیں اور یہ ممکنہ ڈونرز کی ایک بڑی تعداد ہے، اس ٹرائل میں ان مریضوں کو بلامعاوضہ پلازمہ فراہم کیا جارہا ہے جو طبی اہلیت پر پورے اترتے ہیں۔ انہوں نے کورونا کی بغیر علامات والے افراد میں اینٹی باڈیز ٹیسٹ کے لئے پائیدار کٹس کی فراہمی کا انتظام کرنے پر ہلٹن فارما کے اضافی تعاون کا اعتراف کیا۔ ڈاکٹر طاہر شمسی نے وزارت قومی صحت و خدمات، این ڈی ایم اے، تمام صوبائی حکومتوں اور ڈریپ کی فارمیسی سروسز جیسے متعدد سرکاری اداروں کی جانب سے این آئی بی ڈی کو تعاون کی فراہمی پر بھی شکریہ ادا کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…