جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان کے سیکرٹری ا عظم خان کا توہین آمیز رویہ، مطلب کی سمریاں بھجوانے کے مطالبات،احکامات نہیں مان سکتے،سینئر بیورو کریٹس نے کام سے معذرت کر لی،دھماکہ خیز انکشافات

datetime 14  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لا ئن) وزیراعظم عمران خان کے سیکرٹری اعظم خان کے توہین آمیز رویے اور سمریوں کو بار بار مسترد کرکے اپنے مطلب کی سمریاں تیار کرکے بھجوانے کے مطالبات کے بعد آٹھ سینئیر بیورو کریٹس نے ان کے ساتھ کام کرنے سے معذرت کرلی ہے اور وزیر اعظم عمران خان سے درخواست کی ہے کہ انھیں او ایس ڈی بنا دیا جائے وہ ایسے احکامات نہیں مان سکتے کہ کل نیب ان کے گرد شکنجہ کس دے۔

ذرائع کے مطابق نوازشریف دور میں ایک طاقتور عہدے پر رہنے والے بیورو کریٹس ان سیکرٹریوں کی قیادت کر رہے ہیں جو کہ اعظم خان کے احکامات ماننے کو تیار نہیں ہیں اور وہ باقی ماندہ سروس بطور او ایس ڈی گزارنا چاہتے ہیں جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ بیورو کریٹس اعظم خان سے سینیر ہیں مگر جب انھیں وزیراعظم آفس بلایا جاتا ہے تو کئی کئی گھنٹے انتظار کروایا جاتا ہے پھر جو وزارتی اور ڈویژنز کے امور سے متعلق سمریاں ہوتی ہیں اس پر بھی اعظم خان کی جانب سے اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں اور وزیر اعظم کا نام استعمال کرکے حکم دیا جاتا ہے کہ فلاں سمری کو اس انداز سے پیش کیا جائے جب متعلقہ سیکرٹری اس حوالے سے وزیر اعظم یا کابینہ کا تحریری حکم مانگتے ہیں تو ان کی توہین کی جاتی ہے کہ انہوں نے ایسی بات پوچھنے کی جرآت کیوں کی کم و بیش آٹھ وفاقی سیکرٹری ایسے ہیں جو کہ اعظم خان کے ساتھ ان کے اس رویے کی وجہ سے کام کرنے کو تیار نہیں ہیں اس وقت بیورو کریسی میں واضح گروپ بندی بھی ہے جس کی وجہ بھی اعظم خان کا رویہ اور بیورو کریٹس پر غیر ضروری دباؤ ڈالنا ہے اور بیورو کریٹس نے ان کے اکثر احکامات پر عمل درآمد یا تو سست کر دیا ہے یا پھر معذرت کرلی ہے کیونکہ ان بیورو کریٹس کا موقف ہے کہ پالیسی معاملات پر عمل درآمد وفاقی کابینہ کے فیصلوں کی روشنی میں ہوگا اب سیکرٹری ٹو وزیر اعظم کی جانب سے جو خط کا آفس آرڈر اے گا اس کے ساتھ کابینہ کا حکم نامہ یا فیصلہ لازمی منسلک ہوگا ذرائع کا کہنا ہے کہ بیورو کریٹس کا یہ گروپ سابق حکومت میں اہم عہدوں پر رہ چکا ہے اور وہ اب نیب کے خوف سے کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جس سے ان کی پکڑ ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…