جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

عوام کورونا ٹیسٹ کی رپورٹس کیلئے دربدر 24 گھنٹوں میں ملنے والی رپورٹ 96 گھنٹوں بعد ملنے لگی

datetime 14  جون‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)حکومت سندھ کی جانب سے کورونا وائرس کی تشخیصی صلاحیت بڑھانے کے دعوے تو کیے جارہے ہیں لیکن کراچی کے عوام کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹس کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ شہر قائدکے عوام لمبی لائنوں اور طویل انتظار کے بعد آخر کارٹیسٹ کرانے میں تو کامیاب ہو رہے ہیں لیکن 24 گھنٹوں میں ملنے والی رپورٹ 96 گھنٹوں بعد مل رہی ہے۔

جبکہ ضلعی سطح پرلئے گئے ٹیسٹ کے نمونے بھی گم ہونے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔اس سلسلے میں محکمہ صحت کا موقف جاننے کیلئے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو سے مسلسل رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی ان کے موبائل پر ایس ایم ایس جبکہ واٹس ایپ پر بھی میسیج کیا گیا تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔کراچی میں سرکاری سطح پر کرائے گئے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹس چار دن گزرنے کے بعد مل رہی ہیں جس نے شہریوں کو پریشان کر دیا ہے اورہزاروں شہری اپنی رپورٹس کے انتظار میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے صرف استعداد بڑھانے کے دعوے کیے گئے لیکن اسپتالوں اور صحت کے ضلعی دفاتر میں خاطر خواہ پی سی آر مشینیں لگائی گئیں نہ عملہ فراہم کیا گیا بلکہ اسی عملے اور مشینوں کیسا تھ ٹیسٹ میں اضافے کے احکامات دیئے گئے۔جس کے نتیجے میں رپورٹس میں تاخیر ہو رہی ہے۔ جن اسپتالوں میں ٹیسٹ کیے جارہے ہیں ان پر بوجھ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ چند دن قبل انڈس اسپتال نے ٹیسٹ بند کر دیئے تھے، دو دن قبل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس ضلع جنوبی نے بھی کورونا ٹیسٹ بند کیے گئے جس کے بعد گزشتہ روز سول اسپتال کراچی نے بھی تین دنوں کے لئے ٹیسٹنگ سروس بند کرنے کا اعلان کر دیا۔سول اسپتال کراچی، ڈی ایچ اوآفس، جناح اسپتال کراچی، ڈاو یونیورسٹی اوجھا اسپتال، جناح اسپتال کراچی اور انڈس اسپتال سمیت دیگر سرکاری سہولتوں میں کورونا کی رپورٹس وقت پر فراہم نہیں کی جارہیں اس پر اکثر شہریوں کے سیمپل گم ہونے کی بھی شکایات سامنے آرہی ہیں۔اس کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ بروقت رپورٹس نہ ملنے پر شہری احتیاط نہیں برتتیجس سے وہ وائرس دوسروں میں منتقلی کا باعث بن رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…