بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

جنہیں ایٹم بم کی اسپیلنگ نہیں آتی وہ دھماکوں کا کریڈٹ لے رہے ہیں،ضیا ء الحق کے بیٹے بھی میدان میں آگئے ، کھل کر بول پڑے

datetime 31  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)مسلم لیگ ضیا ء کے صدر اعجاز الحق نے کہا ہے کہ جن لوگوں کو ایٹم بم کے اسپیلنگ تک نہیں آتی وہ 28 مئی کے دھماکوں کا کریڈٹ لے رہے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر اعجاز الحق نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کی ذمہ دار کابینہ میں موجود ایک وزیر جو 28 مئی 1998 کو دھماکوں سے خوفزدہ ہوکر پاکستان سے بھاگ گئے تھے۔

حیرت ہے کہ وہ اب ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ لے رہے ہیں اور غیر ذمہ دارانہ بیان دے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایسے لوگ تاریخ اور حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور حکومت کی بنیادوں کو کمزور کرنے پر تلے ہوئے ہیں، یہ اپنی ویڈیو دیکھ لیں تو یاداشت واپس آ جائے گی۔اعجاز الحق نے کہا کہ پاکستان کا ایٹم بم ایک معجزہ ہے، دنیا کی طاقتیں ہر سال پاکستان کو یورینیم کی افزدوگی میں اضافے سے استثنیٰ دینے پر مجبور ہوچکی تھیں۔انہوں نے کہا کہ ایٹم بم ضیاء الحق کے دور میں مکمل ہوا اور نوازشریف دور میں دھماکے کیے گئے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیر ریلوے شیخ رشید نے دعویٰ کیا تھا کہ 1998 میں نواز شریف اور پوری کابینہ ایٹمی دھماکوں کے خلاف تھی، ایٹمی دھماکے راجا ظفر الحق، ایوب خان اور میں نے کیے تھے تاہم دھماکوں کے عین وقت مجھے قومی ذمہ داری کے طور پر ملک سے باہر جانا پڑ گیا تھا۔شیخ رشید کے دعوے کے ردعمل میں مسلم لیگ (ن )پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ شیخ رشید دھماکوں کے وقت ملک سے بھاگ گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…