جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

طیارہ حادثہ ، پاکستانی تحقیقاتی ٹیم بارے ائیر بس ماہرین نے انتہائی اہم بات کر دی

datetime 27  مئی‬‮  2020 |

کراچی( آن لائن ) پی آئی اے کے کراچی میں تباہ ہونے والے مسافر طیارے کی تحقیقات کے لیے فرانس سے آئے ائیر بس ماہرین کی اجازت کے بعد طیارے کے ملبے کو ہٹانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔22 مئی کو لاہور سے کراچی آنے والا پی آئی اے کا بدقسمت طیارہ لینڈنگ سے چند سیکنڈ قبل گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں عملے افراد سمیت 97 مسافر جان بحق ہو گئے تھے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے طیارے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی مختلف اداروں کے ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مختلف زاویوں سے طیارہ حادثے کی تحقیقات کر رہی ہے جب کہ ہوائی جہازوں کے انجن بنانے والی بین الاقوامی کمپنی ائیر نے بھی ماہرین کی ایک ٹیم تحقیقات کے لیے پاکستان بھیجی تھی۔ائیر بس کے ماہرین کی ٹیم 25 مئی کو پاکستان پہنچی تھی اور گزشتہ روز انھوں نے جائے حادثہ اور ائیرپورٹ پر کنٹرول ٹاور کا معائنہ کر کے ضروری شواہد اکٹھے کر لیے تھے۔ذرائع کے مطابق ائیر بس کے ماہرین کی اجازت سے تباہ ہونے والے پی آئی اے طیارے کے ملبے کی منتقلی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔طیار ہ حادثے کی جگہ سے غیر ضروری ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے، ملبہ ہٹانے کے لیے پاک فضائیہ، سول ایوی ایشن اور پی آئی اے انجینئرنگ، ٹیکنیکل گراؤنڈ سپورٹ اسٹاف موجود ہے۔ذرائع کے مطابق طیارے کے کیبن، ٹیل اور دیگر حصوں کو منتقل کیا جا رہا ہے ، طیارے کے انجن اور لینڈنگ گیئرز کی منتقلی چند روز بعد ہوگی۔ذرائع کے مطابق طیارے کے اہم آلات کی جائے حادثے سے منتقلی تحقیقاتی ٹیموں کے کام کی وجہ سے روکی گئی ہے۔طیارہ حادثے میں ائیربس ماہرین نے پاکستانی تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ائیربس ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کی طیارہ حادثے کی تفتیشی ٹیم قواعد کے مطابق کام کر رہی ہے، ٹیم پیشہ ورانہ معیار کے مطابق کام کر رہی ہے۔فرانسیسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اے اے ا?ئی بی اور ادارے کی قیادت کے شکرگزار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…