جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

پلازمہ حاصل کرنے والے کووِڈ مریضوں میں موت کی شرح کتنی ہے؟امریکی تحقیق میں اہم انکشافات

datetime 23  مئی‬‮  2020 |

نیویارک (این این آئی)امریکہ میں ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے کسی شخص سے پلازمہ حاصل کر کے کووِڈ-19 سے شدید بیمار پڑنے والے افراد کو لگایا جائے تو ان کی حالت سنبھلنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جبکہ انھیں ہسپتال میں داخل دیگر مریضوں کی بہ نسبت کم آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔

تحقیق کے مطابق جو لوگ کووِڈ 19 جیسے کسی انفیکشن سے بچ جاتے ہیں، ان کے خون میں ایسی اینٹی باڈیز یعنی پروٹین پیدا ہوجاتے ہیں جو جسم کے مدافعتی نظام کو وائرس سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔خون کا وہ جزو جو ان اینٹی باڈیز کا حامل ہوتا ہے اور جسے دوسرے لوگوں کو لگایا جا سکتا ہے اسے پلازمہ کہتے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیو یارک کے ماؤنٹ سینائی میڈیکل سینٹر کے محققین نے بتایا کہ یہ تحقیق جان بچنے کے رجحان میں بہتری کی جان اشارہ کرتی ہے مگر زیرِ مطالعہ مریضوں کی تعداد کم تھی اور ان نتائج کا اطلاق وینٹیلیٹر پر موجود مریضوں سے نہیں کیا جا سکتا۔محققین نے ہسپتال میں کووِڈ-19 کی شدید علامات کے حامل 39 مریضوں کے نتائج کا تجزیہ کیا جنھیں پلازمہ دیا گیا تھا۔ ان مریضوں کا موازنہ ان مریضوں سے کیا گیا جن کی حالت ان ہی جیسی تھی مگر جنھیں پلازمہ نہیں دیا گیا تھا۔تحقیقی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر نائکول بوویئر نے بتایا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پلازمہ مؤثر ہے مگر یہ ایک مکمل طبی آزمائش نہیں ہے، اس لیے ایسا کرنا ابھی ضروری ہے۔39 میں سے 70 فیصد مریض آکسیجن کی بلند مقدار حاصل کر رہے تھے جبکہ 10 فیصد وینٹیلیٹر پر تھے۔ دو ہفتے بعد پلازمہ حاصل کرنے والے 18 فیصد مریضوں کی حالت بگڑی جبکہ باقی مریضوں میں سے 24 فیصد مریضوں کی۔یکم مئی تک پلازمہ حاصل کرنے والے 13 فیصد افراد ہلاک ہوئے جبکہ دوسرے گروپ سے 24 فیصد افراد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح پلازمہ حاصل کرنے والے گروپ میں ہسپتال سے فارغ ہونے کی شرح 72 فیصد رہی جبکہ دوسرے گروہ میں یہ شرح 67 فیصد تھی۔

موضوعات:



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…