پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ملائیشیا نے بھارت سے ریکارڈ ایک لاکھ ٹن چاول درآمد کرنے کا معاہدہ کرلیا

datetime 17  مئی‬‮  2020 |

کوالالمپور، نئی دہلی( آن لائن )ملائیشیا نے بھارت سے ریکارڈ ایک لاکھ ٹن چاول درآمد کرنے کا معاہدہ کرلیا ہے جو رواں ماہ اور اگلے ایک ماہ کے دوران مکمل ہوجائے گا۔ صنعت سے منسلک عہدیداروں نے بتایا کہ یہ شپمنٹ رواں ماہ اور اگلے ماہ مکمل ہوجائے گی اور یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی کے بعد اب مزید بہتری کا اشارہ ہے۔

ملائیشیا نے بھارت سے گزشتہ 5برسوں کے مقابلے میں رواں سال چاول کی خریداری میں تقریبا دوگنا اضافہ کرلیا ہے جبکہ دیگر برآمدکنندگان میانمار، ویت نام اورکمبوڈیا نے کورونا وائرس کے بحران کے دوران چاول کو اپنے لیے ذخیرہ کرنے کی خاطر برآمد پر عارضی پابندی عائد کردی تھی۔دنیا میں سب سے زیادہ چاول برآمد کرنے والے بھارت میں ملائیشیا کی جانب سے بڑی مقدار میں اسے درآمد سے کسانوں کو آسانیاں ہوں گی۔بھارت کی رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر بی وی کرشنا را کا کہنا تھا کہ ‘ملائیشیا بڑے عرصے بعد بھارت سے بڑی مقدار میں خریداری کررہا ہے’۔بی وی کرشنا اور دیگر عہدیداروں کا کہنا تھا کہ جنوب مشرقی ایشیائی ملک کی بھارت سے نئے معاہدے کے بعد چاول کی درآمد رواں برس 2 لاکھ ٹن ہوجائے گی۔بھارتی وزارت تجارت کی دستاویزات کے مطابق ملائیشیا نے گزشتہ 5 برسوں کے دوران بھارت سے سالانہ 53 ہزار ٹن چاول درآمد کیا اور گزشتہ برس ریکارڈ فروخت 86 ہزار 292 ٹن تھی۔ادھر برآمد کنندگان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اس وقت سفید چاول کی قیمت 390 ڈالر سے 400 ڈالر فی ٹن مقرر کررکھی ہے۔بھارت کی چاول کی کمپنی اولام انڈیا کے نائب صدر نیتن گپتا نے کہا کہ ‘اسی لیے بھارت سے خریداری منافع بخش ہے’۔چاول کے سب سے بڑے برآمد کنندہ ستیام بالاجی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیمانشو اگروال کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ میانمار، ویت نام اور کمبوڈیا کی جانب سے چاول کی برآمد پر پابندی سے ملائیشیا کے بڑے درآمد کنندہ برناس کو بھارت سے درآمد پر مجبور کیا ہو۔واضح رہے کہ ویت نام دنیا میں چاول برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے اور رواں ماہ برآمد کو مکمل طور پر بحال کردیا گیا ہے جبکہ مارچ میں فروخت کو معطل جبکہ اپریل میں رسد کو محدود کردیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…