ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

وفاقی حکومت کا ارکان اسمبلی کو اربوں کا ترقیاتی فنڈز سنگین  بدعنوانیوں اور کمیشن خوری کی نذر کیے جانے کا انکشاف

datetime 4  مئی‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) وفاقی حکومت کا اراکین اسمبلی کو دیا گیا اربوں کا ترقیاتی فنڈز سنگین بدعنوانیوں اور کمیشن خوری کی نذر کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اراکین اسمبلی کو دیے جانے والے ترقیاتی فنڈ ز کمیشن خوری کی نذر کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس کے باعث کراچی کے ترقیاتی کام ایک مرتبہ پھر سوالیہ نشان بن کر رہ گئے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ ترقیاتی کاموں کی

انجام دہی کیلیے ٹینڈرز پاک پی ڈبلیو ڈی کی جانب سے جاری کیے جارہے ہیں اور اب تک سیکڑوں ٹھیکوں کی بندر بانٹ ہوچکی ہے اور متعدد کاموں کے ورک آرڈر بھی جاری کردیے گئے ہیں،اس سلسلے میں کنٹریکٹرز کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے دیے گئے ترقیاتی فنڈز کی افسران کی جانب سے کھلے عام بندر بانٹ کی جارہی ہے۔پاک پی ڈبلیو ڈی کے افسران من پسند کنٹریکٹرز کو من مانا کمیشن وصول کر کے کاموں کے ٹھیکے دینے میں مصروف ہیں، کنٹریکٹرز کا کہنا ہے کہ کام کی منظوری کے عوض 12فیصد کمیشن جبکہ 10 فیصد کمیشن اراکین اسمبلی کے نام پر وصول کیا جارہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بل کی ادائیگی پر 12فیصد کمیشن، گورنمنٹ ٹیکس اور20فیصد کنٹریکٹر کی بچت نکالی جائے تو ساڑھے61فیصد فنڈز صرف اخراجات اور کمیشن خوری کی نذر کیے جارہے ہیں جبکہ صرف 39 فیصد فنڈز بمشکل ترقیاتی کاموں پر خرچ ہوسکے گا جس سے تعمیراتی کاموں کا معیار سوالیہ نشان ہے، موجودہ صورتحال میں پاک پی ڈبلیو ڈی میںکام کرنے والے کراچی کے کنٹریکٹرز نے کھلے عام جاری کمیشن وصولی پر اپنے سر جوڑ لیے ہیں،کنٹریکٹرز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر جاری کمیشن وصولی پر کنٹریکٹرز نے نیب سمیت دیگر تحقیقاتی اداروں کو لوٹ مار اور بدعنوانیوں کے اہم شواہد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کی بھی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…